کمار سانو کی سابقہ اہلیہ کیخلاف 50 کروڑ ہرجانے کے مقدمے میں بڑی قانونی جیت
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
بھارت کے عالمی شہرت پلے بیک سنگر کمار سانو کو سابقہ اہلیہ کے خلاف 50 کروڑ کے ہتک عزت کے دعوے کے کیس میں بڑی قانونی کامیابی ملی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ساکھ کو نقصان پہنچانے کے کیس میں عدالت نے کمار سانو کی سابقہ اہلیہ ریٹا بھٹاچاریہ کو میڈیا پر گلوکار کے خلاف بیانات دینے سے روک دیا۔
ممبئی عدالتِ عالیہ کے جسٹس ملند جادھو کی سربراہی میں بنچ نے رِیٹا بھٹاچاریہ کو زبان بندی کا حکم جاری کیا ہے۔
جس میں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کمار سانو یا ان کے خاندان کے خلاف کسی بھی پلیٹ فارم پر، چاہے وہ پرنٹ، ڈیجیٹل، سوشل میڈیا یا انٹرویو ہو، کوئی منفی، توہین آمیز یا متنازع بیان نہ دیں۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ میڈیا ہاؤسز بھی ایسے بیانات، پوسٹس یا تبصروں سے قطعی باز رہیں جو گلوکار کمار سانو کی ساکھ، وقار اور پیشہ ورانہ شہرت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
بعد ازاں عدالت نے مقدمے کی اگلی سماعت 28 جنوری 2026 تک ملتوی کردی جس میں مصالحت جیسے آپشنز پر بھی غور کیا جائے گا۔
گلوکار کمار سانو نے عدالت کے ابتدائی حکم کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف متنازع بیانات نے میری ساکھ اور خاندان کی عزت کو نقصان پہنچایا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس ریٹا بھٹاچاریہ نے متعدد یوٹیوب اور میڈیا انٹرویوز میں کمار سانو ہر سنگین الزامات لگائے تھے جن میں حمل کے دوران بدسلوکی، خوراک اور طبی سہولیات سے محروم رکھنا شامل تھا۔
سابقہ اہلیہ نے کمار سانو پر غیر ازدواجی تعلقات اور بے وفائی کے الزامات بھی لگائے تھے اور طلاق کی وجہ بھی انھی کو قرار دیا تھا۔
کمار سانو نے ان تمام الزامات کو جھوٹا قرار دے کر سابقہ اہلیہ کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سابقہ اہلیہ کے خلاف
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔