ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹیم بھیجنے کا فیصلہ وزیراعظم کی مشاورت کے بعد ہوگا، محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹیم بھیجنے کا فیصلہ وزیراعظم کی مشاورت کے بعد ہوگا، محسن نقوی WhatsAppFacebookTwitter 0 25 January, 2026 سب نیوز
لاہور (آئی پی ایس )پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)کے چیئر مین محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹیم بھیجنے کا فیصلہ وزیراعظم کی مشاورت کے بعد ہوگا۔ پی سی بی آئی سی سی کے دوہرے معیار کو مسترد کرتا ہے۔ ہم نے کرکٹ کے سنہری اصولوں کو مدنظر رکھ کر بنگلا دیش کی حمایت کی۔
کھلاڑیوں سے گفتگو میں کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت جو فیصلہ کرے گی اسے من و عن عمل کریں گے۔ سیاست زدہ کرکٹ کسی کے مفاد میں نہیں۔ سب کو کرکٹ کے اصولوں پر چلنا چاہیے۔سربراہ پی سی بی نے کہا کہ ہمارے کھلاڑی با صلاحیت اور ہر لحاظ سے مقابلہ کرنا جانتے ہیں۔کسی بھی میدان میں کامیابی ٹیم ورک سے حاصل ہوتی ہے ۔محسن نقوی کی کل وزیراعظم سے بھی ملاقات متوقع ہے جس میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے متعلق مشاورت ہوگی۔اس متعلق محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹیم بھیجنے کا فیصلہ وزیراعظم کی مشاورت کے بعد ہوگا۔کھلاڑیوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم سب پی سی بی کے اصولی موقف کے ساتھ ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسانحہ گل پلازہ سے ملنے والی انسانی باقیات کا ڈی این اے کہاں ہورہا ہے؟ ورثا کو اعتماد میں لیا جائے، فاروق ستار سانحہ گل پلازہ سے ملنے والی انسانی باقیات کا ڈی این اے کہاں ہورہا ہے؟ ورثا کو اعتماد میں لیا جائے، فاروق ستار گھریلو تشددکیخلاف بل دستخط کیلئے صدر مملکت کو ارسال وفاقی حکومت کا کراچی میں اکنامک زون قائم کرنے کا فیصلہ وزیرداخلہ سے چینی قونصل جنرل کی ملاقات، پاک چین دوستی مزید مضبوط بنانے کا اعادہ برابری کی بنیاد پر حقوق کی فراہمی مضبوط ریاست کی بنیاد ہے،جسٹس (ر) اطہر من اللہ ٹیکس نیٹ میں توسیع کے بغیر معیشت کا استحکام ممکن نہیں، چیئرمین ایف بی آرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔