ٹرمپ تنازع کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لاسکتے ہیں،برطانوی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی میڈیا کے مطابق ٹرمپ تنازع کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لاسکتے ہیں۔امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں تعمیرنو سے متعلق بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے بھارت کو بھی دعوت دی ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ بھارت اس دعوت کو قبول کرے گا یا نہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس بورڈ کا مقصد غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کو مستقل بنانا اور فلسطینی علاقے میں ایک عبوری حکومت کی نگرانی کرنا ہے۔وزیرِ اعظم نریندر مودی ان کئی عالمی رہنماؤں میں شامل ہیں جنہیں ٹرمپ نے بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔تاہم جمعرات کو جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’بورڈ آف پیس‘ کا باضابطہ آغاز کیا تو بھارت ان ممالک میں شامل تھا جو تقریب میں موجود نہیں تھے۔جن ممالک نے ٹرمپ کی دعوت قبول کی ان میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔ٹرمپ نے کہا ہے کہ 59 ممالک نے بورڈ میں شامل ہونے کے لیے دستخط کیے ہیں لیکن ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران منعقد ہونے والی اس تقریب میں صرف 19 ممالک کے نمائندے ہی موجود تھے۔ امریکی صدر کے بقول ’یہ صرف امریکا کے لیے نہیں، بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہم اسے دوسری جگہوں پر پھیلا سکتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے غزہ میں کامیابی سے کیا۔‘’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے پر بھارت کے غیر فیصلہ کن ہونے کے بارے میں بحث جاری ہے۔ کچھ ماہرین اس میں شامل ہونے کی وکالت کر رہے ہیں جبکہ بہت سے لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔اقوامِ متحدہ میں بھارت کے سابق سفیر سید اکبر الدین نے 23 جنوری کو ’ٹائمز آف انڈیا‘ میں لکھا کہ بھارت کو اس بورڈ میں شامل نہیں ہونا چاہیے‘ ٹرمپ کا بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 سے متصادم ہے‘ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کی کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی، اسے غزہ کے باہر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے‘ بورڈ آف پیس صدر ٹرمپ پر بہت زیادہ انحصار کر رہا ہے‘اس کے قیام کے اخراجات، تنخواہیں کی فراہمی اور مستقل رکنیت، یہ شراکت سے بڑھ کر معاملات ہیں۔اکبر الدین کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کے بعض عہدے دار بھی یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ یہ فریم ورک دوسرے تنازعات والے علاقوں پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے بہت سے لوگ اقوامِ متحدہ کے متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں‘ ٹرمپ کا تفصیلی بیان بورڈ کے امن قائم کرنے کے کردار کے بارے میں بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔جرمن نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں بھارت کے سابق مستقل مندوب ٹی ایس ترمورتی کا خیال ہے کہ بھارت کو بھی اس بورڈ میں شامل ہونا چاہیے‘ یہ بورڈ اقوامِ متحدہ کو چیلنج نہیں کر رہا، کیونکہ اس کی نمائندگی محدود ہے لیکن یہ جی 20 کے متوازی ضرور قرار دیا جا سکتا ہے، جس کے ارکان کی تعداد کم ہے‘ بھارت کی شرکت گلوبل ساؤتھ کے خدشات کو کمزور کرنے کے بجائے مضبوط کرے گی۔ رنجیت رائے، جو نیپال اور ویتنام میںبھارت کے سفیر تھے، کا ماننا ہے کہ بھارت کے لیے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ لینا آسان نہیں ہے۔ رنجیت رائے نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ بھارت کے مخمصے میں اضافہ ہوا ہے۔ چاہے بھارت اسے قبول کرے یا رد کرے، اس کا اثر پڑے گا۔ میرے خیال میں بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے خطرات زیادہ ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ ٹرمپ اس کے چیئرمین ہیں اور ان کے لین دین پر مبنی رویے سے انصاف کی توقع رکھنا بے معنی لگتا ہے۔‘وہ کہتے ہیں کہ اگر بھارت اس میں شامل نہیں ہوتا تو بھی اس کا اثر پڑے گا، کیونکہ اس فیصلے سے مغربی ایشیا متاثر ہو گا‘ مغربی ایشیا میں استحکام بھارت کی توانائی کی سلامتی، بھارتی تارکین وطن کے مفادات، جہاز رانی کے راستوں اور سرمایہ کاری کے لیے ضروری ہے۔رنجیت رائے کہتے ہیں کہ ’مجھے ڈر ہے کہ شامل ہونے سے، بھارت بورڈ آف پیس کے فیصلوں کی توثیق کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ٹرمپ کا بورڈ آف پیس یا بی او پی ایسے وقت میں تشکیل پا رہا ہے جب امریکا اقوام متحدہ کی کئی تنظیموں سے دستبردار ہو رہا ہے، یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ کیا بی او پی کا مقصد اقوام متحدہ کو غیر متعلقہ قرار دینا ہے؟ اکبرالدین نے ٹائمز آف انڈیا میں لکھا کہ ’کیا ممبر ممالک بی او پی کے چیئرمین کی اتھارٹی کو چیلنج کر سکتے ہیں؟ کیا بھارت دعوتوں، پیسے اور ذاتی اثر و رسوخ پر مبنی ماڈل کی حمایت کرے گا؟ بھارت کو اس جال میں نہیں پھنسنا چاہیے۔ خارجہ امور کی ماہر اور تجزیہ کار نروپما سبرامنیم کا کہنا ہے کہ اگر بھارت اس میں شامل ہوتا ہے تو بہت سے خطرات ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بھارت جلد بازی میں اس میں شامل نہیں ہو سکتا۔ کن شرائط کے تحت رکن ممالک اس کے چارٹر کے پابند ہوں گے؟ اس کی تشریح کا اختیار کس کے پاس ہو گا؟‘ وہ کہتی ہیں کہ ’بہت سے ممالک نے بورڈ میں شامل ہونے کے موقع سے فائدہ اٹھایا ہے۔ 23 جنوری کو بھارت کے معروف انگریزی اخبار دی ہندو نے اس مسئلے پر ایک اداریہ لکھا۔ جس میں کہا گیا کہ ’امریکا اور بھارت کے تعلقات میں پیدا ہونے والی دراڑ اور تجارتی مذاکرات کی نازک صورتحال بھی اس مرحلے پرٹرمپ کی دعوت کو مسترد نہ کرنے کی وجوہات ہو سکتی ہیں‘ ایسا کرنے سے ٹرمپ کی ناراضی مول لی جا سکتی ہے، جیسا کہ فرانسیسی صدر کے معاملے میں ہوا۔ لیک ہونے والے چارٹر کے مطابق ٹرمپ نے خود کو اس کا چیئرمین مقرر کیا ہے اور ایگزیکٹو بورڈ میں اپنے ذاتی دوستوں اور اہلِ خانہ کو بھی شامل کیا ہے۔ جاری کیے گئے چارٹر میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ بورڈ آف پیس کو دیگر تنازعات کے حل میں شامل کیا جائے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ ادارہ اقوامِ متحدہ کی جگہ لینے کی کوشش کر سکتا ہے۔ دی ہندو نے لکھا کہ ’بورڈ میں شامل ہونے کا پاکستان کا فیصلہ بھارت کے لیے ایک انتباہی اشارہ ہے، خاص طور پر اگر ٹرمپ نے تنازع کشمیر کو امن کے منصوبوں میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تو بورڈ آف پیس اسے حل کرنے کی کوشش کرے گا۔ ٹرمپ بارہا مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں جب کہ دوسری جانب بھارت کسی بھی تیسرے فریق کے کردار کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ ’ٹرمپ نے اس ادارے کو ابتدا میں غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان امن معاہدے کی نگرانی کے لیے قائم کیا تھا لیکن اب وہ اسے ایک ایسے ادارے میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اقوامِ متحدہ کا مقابلہ کر سکے۔‘ دی نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ ’اس کے چارٹر میں تنظیم کے صدر ٹرمپ کو غیر معمولی اختیارات دیے گئے ہیں، جن میں فیصلوں کو ویٹو کرنے، ایجنڈا طے کرنے، ارکان کی تقرری اور برطرفی، پورے بورڈ کو تحلیل کرنے اور اپنے جانشین کو نامزد کرنے کے اختیارات شامل ہیں۔‘بورڈ کا قیام ایک ایسے وقت میں عمل میں آیا ہے جب ٹرمپ امریکی خارجہ پالیسی کے ایک سامراجی وژن کو آگے بڑھا رہے ہیں، جس میں امریکا کا دیگر ممالک کی حکومتوں کو گرانا، غیر ملکی علاقوں اور وسائل پر قبضہ کرنا اور حتیٰ کہ ہمسایہ ممالک پر بھی ان کی مرضی کے خلاف غلبہ حاصل کرنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بورڈ میں شامل ہونے بورڈ ا ف پیس میں بھارت اس بھارت کو کہ بھارت بھارت کے نہیں ہو رہے ہیں سکتا ہے لکھا کہ ہونے کے ٹرمپ کا بہت سے ہیں کہ رہا ہے کے لیے بھی اس کو بھی
پڑھیں:
اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی مدت پوری ہونے کے بعد ان کے جانشین کے انتخاب کے لیے 6 امیدوار سامنے آ گئے ہیں۔ عالمی ادارہ اس وقت بڑھتی ہوئی جنگوں، عالمی عدم استحکام اور شدید مالی بحران جیسے غیر معمولی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث نئے سربراہ کے انتخاب کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
امیدواروں میں 4 خواتین اور 2 مرد شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ کسی ایک امیدوار کو واضح برتری حاصل نہیں، تاہم ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے رافیل گروسی کا نام سب سے زیادہ مضبوط امیدوار کے طور پر لیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے اگلے سربراہ کے انتخاب کے لیے سلامتی کونسل کے 15 میں سے کم از کم 9 ارکان کی حمایت درکار ہوگی، تاہم امیدوار کو 5 مستقل ارکان امریکا، برطانیہ، چین، فرانس اور روس میں سے کسی ایک کے ویٹو سے بھی بچنا ہوگا۔ سلامتی کونسل کی سفارش کے بعد ہی جنرل اسمبلی نئے سیکریٹری جنرل کی باضابطہ منظوری دے گی۔
مشیل باشیلے (چلی)74 سالہ مشیل باشیلے چلی کی پہلی خاتون صدر رہ چکی ہیں۔ جنرل آگستو پنوشے کی فوجی حکومت کے دوران انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
بعد ازاں وہ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق بھی رہیں، جہاں انسانی حقوق سے متعلق ان کے مؤقف، خصوصاً چین کے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں سے متعلق رپورٹ، پر بیجنگ نے سخت تنقید کی۔
باشیلے کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے پاس بڑی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود اخلاقی قیادت ہونی چاہیے۔
انہیں میکسیکو اور برازیل کی حمایت حاصل ہے، تاہم چلی کی نئی حکومت نے ان کی حمایت واپس لے لی ہے، جبکہ امریکا بھی اسقاط حمل کے حق میں ان کے مؤقف پر تنقید کرتا رہا ہے۔
ماریا فرنانڈا ایسپینوسا (ایکواڈور)61 سالہ ماریا فرنانڈا ایسپینوسا ایکواڈور کی سابق وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سابق صدر رہ چکی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ انسانیت کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کا واحد عالمی پلیٹ فارم ہے، تاہم ادارے میں گہری اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔
انہوں نے مستقبل کے تنازعات کی پیشگی نشاندہی کے لیے ابتدائی انتباہی نظام (Early Warning System) قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔
ان کی امیدواری کی حمایت اینٹیگوا اینڈ باربوڈا نے کی ہے، تاہم ان کے اپنے ملک ایکواڈور نے باضابطہ حمایت نہیں کی۔
رافیل گروسی (ارجنٹائن)65 سالہ رافیل گروسی پیشہ ور سفارت کار ہیں اور 2019 سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔
انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام اور یوکرین کے زاپوریزیا جوہری پلانٹ سے متعلق عالمی سفارت کاری میں اہم کردار ادا کیا۔
گروسی نے سیکریٹری جنرل کی انتخابی مہم چلانے کے لیے اپنے موجودہ عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنا ان کی ذمہ داریوں سے غفلت کے مترادف ہوگا۔
وہ اقوام متحدہ میں اصلاحات اور سیکریٹری جنرل کے زیادہ فعال کردار کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔
ربیکا گرینسپن (کوسٹا ریکا)70 سالہ ربیکا گرینسپن کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر اور اقوام متحدہ کے ادارے UNCTAD کی سربراہ ہیں۔
انہوں نے سیکریٹری جنرل کی مہم کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے عارضی رخصت لے رکھی ہے۔
2022 میں انہوں نے روس اور یوکرین کے درمیان بحیرہ اسود اناج معاہدہ کرانے میں اہم سفارتی کردار ادا کیا، جس کے ذریعے یوکرین سے اناج کی برآمدات بحال ہوئیں۔
گرینسپن کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ ایک ضرورت سے زیادہ محتاط ادارہ بن چکا ہے، جس میں مؤثر فیصلوں کی رفتار بڑھانے کی ضرورت ہے۔
کیرولین روڈریگز برکیٹ (گیانا)52 سالہ کیرولین روڈریگز برکیٹ گیانا کی سابق وزیر خارجہ اور اس وقت اقوام متحدہ میں اپنے ملک کی مستقل مندوب ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو عالمی سطح پر اپنی ساکھ دوبارہ بحال کرنا ہوگی۔
ان کے مطابق اقوام متحدہ کو صرف امن و سلامتی کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ ادارہ ترقی، انسانی حقوق اور دیگر کئی شعبوں میں بھی نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔
میکی سال (سینیگال)64 سالہ میکی سال اس دوڑ میں شامل واحد امیدوار ہیں جو لاطینی امریکا سے تعلق نہیں رکھتے، حالانکہ روایتی طور پر اس مرتبہ سیکریٹری جنرل کا منصب لاطینی امریکا کو ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
سینیگال کے سابق صدر میکی سال امن اور ترقی کے باہمی تعلق پر زور دیتے ہیں۔
ان کی امیدواری سب سے پہلے برونڈی نے، جو اس وقت افریقی یونین کی سربراہی کر رہا ہے، پیش کی تھی، جبکہ سینیگال نے بھی حال ہی میں ان کی باضابطہ حمایت کا اعلان کیا ہے۔
تاہم سینیگال میں ان پر 2021 سے 2024 کے دوران حکومت مخالف مظاہروں کو طاقت سے کچلنے کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں، جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
انتخاب کا طریقۂ کاراقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تقرری 5 سال کے لیے ہوتی ہے۔ سلامتی کونسل امیدوار کے نام کی سفارش کرتی ہے، جس کے بعد 193 رکنی جنرل اسمبلی اس کی توثیق کرتی ہے۔ اگرچہ سلامتی کونسل میں 9 ووٹ درکار ہوتے ہیں، لیکن کسی بھی مستقل رکن کا ویٹو امیدوار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی، یوکرین اور غزہ کی جنگ، مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور اقوام متحدہ کے مالی مسائل کے باعث اس مرتبہ سیکریٹری جنرل کا انتخاب گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور حساس تصور کیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں