مری میں تمام شاہراہوں پر ٹریفک مکمل بحال، سیاحوں کے لیے ایڈوائزری جاری
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
مری شہر کی تمام مرکزی اور رابطہ شاہراہوں پر ٹریفک مکمل طور پر بحال ہے اور آمد و رفت معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔
یہ بات ترجمان سٹی ٹریفک پولیس مری نے بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام شاہراہوں پر ٹریفک مکمل کنٹرول میں ہے اور ٹریفک پولیس کے اہلکار فیلڈ میں موجود رہ کر ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں۔
ٹریفک صورتحال مکمل کنٹرول میںچیف ٹریفک آفیسر مری عمران رزاق نے کہا ہے کہ ٹریفک کے بہاؤ کو برقرار رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ٹریفک اہلکار اہم مقامات، پوائنٹس اور شاہراہوں پر موجود ہیں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
برفباری کے پیش نظر سیاحوں کے لیے خصوصی ٹریفک ایڈوائزریترجمان ٹریفک پولیس مری کے مطابق دورانِ برفباری سیاحوں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی ٹریفک ایڈوائزری جاری کر دی گئی ہے۔
چیف ٹریفک آفیسر مری نے سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ مری آنے سے قبل موسم اور ٹریفک کی تازہ صورتحال ضرور حاصل کریں۔
سفر سے قبل گاڑی کی مکمل جانچ ضروریڈی ٹی او مری کے مطابق سیاح روانگی سے پہلے اپنی گاڑی کو مکمل طور پر چیک کریں، جبکہ برفباری کے موسم میں فور وہیل ڈرائیو گاڑی کو ترجیح دی جائے۔
چیف ٹریفک آفیسر عمران رزاق نے کہا کہ ٹائر چین لازمی ہمراہ رکھیں اور گاڑی سلپ ہونے کی صورت میں فوراً چین کا استعمال کریں۔
دورانِ سفر احتیاطی تدابیرٹریفک پولیس نے ہدایت کی ہے کہ سفر کے دوران صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور غیر ضروری جلد بازی سے گریز کریں۔
برفباری کے دوران گاڑی میں گرم کپڑے، کمبل، خشک میوہ جات اور دیگر ضروری اشیاء لازمی رکھیں تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں مشکلات سے بچا جا سکے۔
چیف ٹریفک آفیسر مری نے زور دیا ہے کہ پوائنٹس پر موجود ٹریفک وارڈنز اور افسران کی ہدایات پر عمل کیا جائے کیونکہ یہ اقدامات مسافروں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لین لائن کی سختی سے پابندی کی جائے، کسی صورت ڈبل لائن نہ بنائی جائے، سڑک پر کھڑے ہو کر سلفیاں بنانے سے گریز کیا جائے اور رانگ پارکنگ ہرگز نہ کی جائے۔
کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہری اور سیاح ٹریفک کنٹرول روم مری کی ہیلپ لائن 051-9269200 پر فوری رابطہ کر سکتے ہیں۔
موسم کی تازہ صورتحالترجمان سٹی ٹریفک پولیس مری کے مطابق موسم کی تازہ صورتحال کے پیش نظر شام کے وقت بارش اور برفباری کا امکان ہے، جس کے باعث سیاحوں کو مزید احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سیاحوں کے لیے ایڈوائزری مری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیاحوں کے لیے ایڈوائزری چیف ٹریفک آفیسر شاہراہوں پر ٹریفک پولیس کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔