گل پلازا سیکیور کیا ہے، فی الحال سیل نہیں کیا، ڈی سی جنوبی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) جنوبی جاوید نبی کھوسو نے کہا ہے کہ گل پلازا کو سیکیور کیا ہے، فی الحال سیل نہیں کیا۔
میڈیا سے گفتگو میں ڈی سی جنوبی نے کہا کہ آتش زدہ گل پلازا میں کوئی غیر متعلقہ شخص داخل نہ ہو، اس لیے اس کو کورڈن آف کیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کراچی جنوبی جاوید نبی کھوسو نے گل پلازا آتشزدگی کے 8 ویں دن سرچ آپریشن مکمل ہونے کا اعلان کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ فیملی کا شخص اگر اندر جانا چاہے تو ہم اسے محفوظ طریقے سے لے کر جائیں گے، ہم نے گل پلازا کو سیکیور کیا ہے، سیل نہیں کیا۔
جاوید نبی کھوسو نے مزید کہا کہ دکان داروں کا سامان بھی اندر موجود ہے، دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پشاور سے 2 لاپتا افراد کے ورثاء بھی کراچی پہنچے ہیں، جنہیں کل ڈی این اے کے لیے سول اسپتال بلایا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔