Jasarat News:
2026-06-03@04:14:31 GMT

امریکا کے جنگی عزائم!

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260127-03-2
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہوچکی ہے، ایک طرف امریکا نے اپنے جنگی جہاز ایران کی طرف روانہ کردیے ہیں تو دوسری طرف امریکی سینٹ کام کمانڈر اچانک اسرائیل پہنچ گئے ہیں تاکہ وہاں کے سینئر دفاعی حکام کے ساتھ مشرق وسطیٰ کی تناظر میں تعاون، فوجی رابطے اور ممکنہ سیکورٹی حکمت ِ عملی پر تبادلہ خیال کریں۔ یہ دورہ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ خطے میں فوجی نقل و حرکت تیز ہے اور امریکا اپنے اتحادیوں سے تبادلہ ٔ خیال بڑھا رہا ہے۔ ایران کی جانب روانہ کی جانے والی بڑی فورس میں جنگی بحری جہاز اور طیارے بھی شامل ہیں، غیر ملکی میڈیا نے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک کیریئر اسٹرائیک گروپ اور دیگر فوجی مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ ہوچکے ہیں اور ان میں طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن، جنگی بحری جہاز اور جنگی طیارے شامل ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، احتیاطی طور پر فورس تعینات کی جارہی ہے، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے جبکہ پاسداران انقلاب گارڈز کے سربراہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں فوری جواب دیں گے، دشمن غلط فہمی میں نہ رہیں، ہمارا ہاتھ ہتھیاروں کے ٹریگر پر ہے، امریکا اور اسرائیل کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہماری طاقت کے حوالے سے غلط اندازے لگانے کا نتیجہ ان کے لیے اچھا نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دشمنوں کو 12 روزہ جنگ کے بعد کم ازکم اتنا اندازہ تو ہوگیا ہوگا کہ ہم پر حملے کی صورت میں انہیں درناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کا انہی کو بعد میں پچھتاوا ہوگا۔ انہوں کہا کہ ماضی کے مقابلے میں ایرانی افواج پہلے سے زیادہ بہتر طور پر تیار ہیں اور صہیونی ریاست یا امریکا نے کوئی سازش کی تو اس کا جواب دیا جائے گا۔ پیش آمدہ صورتحال پر ایران نے واضح طور پر دو ٹوک وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان پر حملہ ہوا تو یہ مکمل جنگ ہوگی اور وہ بدترین صورتحال کے لیے تیار ہیں۔ ادھر ایران سے متعلق یہ افواہ اڑائی جارہی ہے کہ ایران نے خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور ایران و امریکا کے درمیان تناؤ کے پیش نظر اپنی فضائی حدود کو سویلین پروازوں کے لیے بند کردیا ہے جس پرایرانی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے ترجمان نے واضح کیا کہ ’’ایران کی فضائی حدود کو بند کرنے کے حوالے سے جو خبریں پھیلائی جا رہی ہیں وہ محض افواہیں ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں ہے، ملک بھر کے تمام ہوائی اڈوں پر فلائٹ آپریشنز معمول کے مطابق جاری ہیں اور فضائی ٹریفک میں کوئی رکاوٹ یا تبدیلی نہیں کی گئی‘‘۔ ایران کی جانب بحری بیڑے کی روانگی پر امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اس تعیناتی کا مقصد ایران کو مناسب رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرنا ہے لیکن وہ فوجی تصادم سے گریز کی کوشش بھی کر رہے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل وہ ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے اشارے بھی دے چکے ہیں۔ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں ایران کے حوالے سے اپنے ’’سخت ترین‘‘ موقف میں تھوڑی نرمی دکھائی ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ براہِ راست تصادم کے بجائے مذاکرات یا معاہدے کو ترجیح دے سکتے ہیں، تاہم وہ ’’طاقت کے ذریعے امن کی پالیسی پر قائم ہیں‘‘۔ ٹرمپ کے لب ولہجے میں اس تبدیلی کو ایران نے ’’نفسیاتی جنگ‘‘ قرار دیا ہے۔ ٹرمپ کے اس تضاد پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ دو طرفہ حکمت عملی اپنا رہی ہے۔ ایک طرف فوجی طاقت کا مظاہرہ کر کے ایران پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، اور دوسری طرف سفارت کاری کا دروازہ کھلا رکھنے کی بات کی جا رہی ہے تاکہ ایران کو نئی شرائط پر مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ پنٹاگون کا موقف ہے کہ یہ تعیناتیاں صرف دفاعی مقصد کے لیے ہیں تاکہ اسرائیل اور خطے میں موجود دیگر امریکی اتحادیوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور تیل کی عالمی ترسیل کے راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قول و فعل کے تضاد سے امریکا پر بھروسا کرنے والے کمزور ممالک کے رہے سہے اعتماد کو بھی خاک میں ملا دیا ہے، ایک طرف وہ دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ امن کے داعی ہیں، دنیا میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں، ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہوں نے پانچ بین الاقوامی جنگیں رکوا کر دنیا میں امن قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور اس اعلیٰ کارکردگی پر انہیں نوبل امن انعام دیا جانا چاہیے تھا۔ وہ غزہ میں امن کے لیے ’’بورڈ آف پیس‘‘ نامی ادارہ بھی قائم کر چکے ہیں، مگر اس امر کی حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ امریکی صدر اپنے اقدامات اور من مانے فیصلوں سے یہ بات ثابت کر رہے ہیں کہ وہ کسی اصول، قاعدے، قانون اور ضابطے کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں، اس امر کا اظہار وہ کھلے بندوں بھی کرچکے ہیں کہ ’’مجھے کوئی قانون روک نہیں سکتا، صرف میری اخلاقیات مجھے روک سکتی ہے‘‘۔ امریکی صدر کے اس نوع کے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی بین الاقوامی قانون، اصول اور ضابطے حتیٰ کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی بھی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔ امریکا نے 78 سال کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے بھی باضابطہ طور پر دستبرداری اختیار کر لی ہے، جس سے امریکا کا ڈبلیو ایچ او کے ساتھ عملی تعلق بالکل ختم ہو گیا ہے۔ ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ کی موجودگی کے باوجود بورڈ آف پیس نامی ادارہ قائم کر کے اپنے عزائم کو طشت ِ ازبام کردیا ہے، یہی وجہ ہے کہ بڑے ممالک نے اس بورڈ میں شمولیت سے گریز کی راہ اپنائی ہے۔ چین نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا کے قائم کردہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شامل نہیں ہوگا، چین کا کہنا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے نظام کو مرکزی حیثیت دینے اور بین الاقوامی قانون و اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں پر قائم رہنے کا پابند ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر امریکا کو ایران سے تکلیف کیا ہے؟ آخر کیوں وہ ایران پر حملے کے لیے پر تول رہا ہے؟۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا ایران کو اپنے اس عالمی نظام کے لیے چیلنج سمجھتا ہے وہ کلی طور پر حکمرانی کا خواہاں ہے، امریکا پوری دنیا پر اپنی ایسی دھاک بٹھانا چاہتا ہے کہ کسی بھی ملک کواس کے سامنے سر اٹھانے کا یارا نہ ہو۔ ایران کا جرم محض یہ ہے کہ وہ دنیا کے مہذب ملکوں میں ایک آزاد اور خودمختار ملک کے طور پر جینا چاہتا، وہ اپنا دفاع اور سلامتی کا حق چاہتا ہے، ایران معاشی ترقی اور برابری کی سطح پر تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے، خود مختار ایران امریکا کو کسی طور گوارا نہیں، ایران ہی نہیں امریکا کو ہر ایسے ملک سے شکایت ہے جو اس کے احکامات کا نظر انداز کرے، جوامریکی کیمپ میں شامل نہ ہو اور آزادانہ اپنی خارجہ، معاشی اور دفاعی پالیسی مرتب کرے۔ ایرن انہی ممالک میں شامل ہے جو کسی بھی طور امریکی جبر کے آگے جھکنے کے لیے تیار نہیں، علاوہ ازیں امریکا کسی بھی طور ایران کو خطے کی ایک طاقتور ریاست کے طور پر ابھرتا نہیں دیکھنا چاہتا، اسرائیل کی دفاع اور سلامتی امریکا کی اولین ترجیح ہے اور امریکا سمجھتا ہے کہ خطے میں ایران ہی وہ قوت ہے جو اسرائیل کے ناجائز وجود کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ امریکا کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ طاقت کے زور پر کسی کو زیر نہیں کیا جاسکتا، ایران پر حملہ پورے خطے کو آتش فشاں میں تبدیل کرے گا اور خطے میں قیام ِ امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ امریکی صدر امریکا کو ایران کی ایران کو یہ ہے کہ ہے کہ وہ ہیں اور کسی بھی ہے کہ ا رہا ہے کے لیے دیا ہے ہیں کہ

پڑھیں:

امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان

امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔

’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔

اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔

مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں

امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔

امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘

1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔

تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان