سندھ حکومت نے منہ زور بیوروکریٹس کو عہدوں سے ہٹا ناشروع کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
رفیق قریشی کو وزرا سے طاقت ور سیکریٹری سمجھا جاتا تھا، جب کہ ریحان بلوچ اپنے وزیر کے علاوہ کسی وزیر اور مشیر کی بات نہیں سنتے تھے
میونسپل کمشنر افضل زیدی کو اسی سلسلے میں ہٹا دیا گیا ، وہ گزشتہ کئی سال میونسپل کمشنر تعینات تھے،ضمیر عباسی کو بھی رپورٹ کردیا گیا ،ذرائع
سندھ حکومت نے کسی کی نہ سننے والے افسران کو عہدوں سے ہٹانا شروع کر دیا ہے۔سندھ حکومت نے منہ زور بیوروکریٹس کو عہدوں سے ہٹا کر رپورٹ کرنا شروع کر دیا ہے، اچانک سے سالوں سے طاقت ور سمجھے جانے والے افسران اب رپورٹ ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق متعلقہ افسران وزرا سے زیادہ طاقت ور سمجھے جاتے تھے، جن کو کوئی ہٹا نہیں سکتا تھا، سندھ حکومت میں جو افسران کسی کی نہیں سن رہے تھے، انھیں اچانک برطرف کیا جانے لگا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افسران کو کوئی اور پوسٹنگ نہیں دی جا رہی بلکہ رپورٹ کیا جا رہا ہے، 20 گریڈ کے افسران سیکریٹری بلدیات رفیق قریشی، سیکریٹری صحت ریحان بلوچ رپورٹ ہوئے ہیں، رفیق قریشی کو وزرا سے بھی طاقت ور سیکریٹری سمجھا جاتا تھا، جب کہ ریحان بلوچ اپنے وزیر کے علاوہ کسی وزیر اور مشیر کی بات نہیں سنتے تھے۔20 گریڈ کے میونسپل کمشنر افضل زیدی کو بھی اسی سلسلے میں ہٹا دیا گیا ہے، وہ گزشتہ کئی سال میونسپل کمشنر تعینات تھے، 20 گریڈ کے سیکریٹری محنت اسد اللہ ابڑو کو بھی رپورٹ کر دیا گیا ہے۔محمد علی شاہ اسپیشل سیکریٹری بلدیات ہیں، وہ 19 گریڈ میں ہونے کے باوجود بیس گریڈ کی پوسٹ پر تعینات تھے، اس کے علاوہ وہ دیگر بڑی پوسٹوں پر بھی رہے ہیں، ڈپٹی کمشنر ایسٹ بھی رہے، انھیں بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ان کے علاوہ بیوروکریٹ ضمیر عباسی کو بھی رپورٹ کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: میونسپل کمشنر سندھ حکومت دیا گیا ہے کے علاوہ رپورٹ کر کو بھی سے ہٹا کر دیا
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔