data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ میں موجود آخری اسرائیلی یرغمالی، ران گویلی، کی لاش برآمد کر لی ہے۔

آخری اسرائیلی یرغمالی کی لاش کی بازیابی کے بعد گزشتہ سال اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق نیشنل سینٹر آف فارنزک میڈیسن نے اسرائیلی پولیس اہلکار ران گویلی کی شناخت کی تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد غزہ لے جائے گئے تمام اسرائیلی یرغمالی زندہ یا مردہ حالت میں اسرائیل واپس آ چکے ہیں۔

اس سے ایک روز قبل فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے بیان میں کہا تھا کہ ثالثوں کو آخری قیدی کی لاش کے ممکنہ مقام سے متعلق تمام معلومات فراہم کر دی گئی ہیں تاکہ اسے امریکی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل کے حوالے کیا جا سکے۔

اسرائیلی فوج نے اتوار کی شام بھی تصدیق کی تھی کہ وہ شمالی غزہ کے ایک قبرستان میں ران گویلی کی لاش کی تلاش کر رہی ہے۔

اسرائیلی یرغمالی کی لاش ملنے کے بعد حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پیش رفت جنگ بندی معاہدے پر حماس کے عمل درآمد کا ثبوت ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حماس معاہدے کے تمام پہلوؤں پر عمل درآمد جاری رکھے گی، جن میں غزہ کے انتظام کے لیے قائم قومی کمیٹی کو سہولت فراہم کرنا اور اس کی کامیابی کو یقینی بنانا بھی شامل ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے اتوار کی شام اعلان کیا تھا کہ آخری یرغمالی ماسٹر سارجنٹ ران گویلی کی لاش کی بازیابی کے لیے جاری فوجی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اسرائیل غزہ اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ دوبارہ کھول دے گا۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسرائیلی یرغمالی اسرائیلی فوج کے بعد کی لاش

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل