ایس آئی ایف سی کی مؤثر حکمت عملی نے پاکستان کو سیاحت کے نئے مواقع اور توجہ کا مرکز بنا دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ایس آئی ایف سی کی معاونت اور مربوط حکمتِ عملی کے باعث پاکستان کا سیاحتی شعبہ نئی ترقیاتی جہتوں کی جانب گامزن ہو گیا ہے، جس سے ملک خطے میں سیاحت اور سرمایہ کاری کے لیے توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ سیاحتی اصلاحات کے نتیجے میں پاکستان جنوبی ایشیا میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش ہب کی صورت اختیار کر رہا ہے۔
پاکستان کے سیاحتی شعبے میں جدید انفراسٹرکچر اور بہتر سہولیات کی فراہمی سے سیاحتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے سیاحت کے فروغ کے لیے ’’سسٹین ایبل ٹورزم ایکسپو اینڈ فورم‘‘ کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد پاکستان میں سیاحت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا تھا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے کہا کہ پاکستان تاریخی اور ثقافتی ورثے سے مالا مال ملک ہے، جہاں بے شمار سیاحتی مقامات اور دنیا کی بلند ترین چوٹیاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری اور عالمی شراکت داری کے لیے منافع بخش اور پُرکشش مواقع فراہم کر رہا ہے۔
ایس آئی ایف سی اور بورڈ آف انویسٹمنٹ نے پاکستان کو پائیدار سیاحت کے لیے ممتاز مقام بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سیاحت کے فروغ کے ذریعے معیشت کو مضبوط بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مقامی کمیونٹیز کو بااختیار بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ایس آئی ایف سی کی سہولت سے آن لائن ویزا اور ویزا آن ارائیول کی سہولیات نے پاکستان کو غیر ملکی سیاحوں کے لیے مزید پرکشش بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایس آئی ایف سی کی مؤثر اور مربوط اصلاحات پاکستان کو ایک ابھرتے ہوئے سیاحتی پاور ہب میں تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایس آئی ایف سی کی سرمایہ کاری پاکستان کو سیاحت کے کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔