سانحہ گل پلازہ: شہدا کے اہلخانہ کو ایک کروڑ روپے فی کس دینے کی منظوری دے دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
سندھ کابینہ نے سانحہ گل پلازہ میں شہید ہونے والوں کے اہلخانہ کو ایک کروڑ روپے فی کس دینے کی منظوری دیدی۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ سانحہ گل پلازہ میں متاثر ہونے والے دکانداروں کو 5-5 لاکھ روپے کچن اور یوٹیلیٹی اخراجات کے لیے کمشنر کے ذریعے ادا کیے جا رہے ہیں۔
سندھ کابینہ نے متاثرہ دکانداروں کو ایک ایک کروڑ روپے بلاسود قرض فراہم کرنے کی منظوری دی اور اس موقع پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا تھا ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ متاثرین کو ہر ممکن ریلیف فراہم کریں۔
سندھ کابینہ نے سانحہ گل پلازہ پر افسوس کا اظہار کیا وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی سربراہی میں سب کمیٹی قائم کردی گئی، سب کمیٹی میں صوبائی وزراء؛ شرجیل انعام میمن، ناصر حسین شاہ، سعید غنی اور ضیاء الحسن لنجار شامل ہیں۔
سب کمیٹی کمشنر کراچی کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لے گی، سب کمیٹی کمشنر کی رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی اور لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی۔
سندھ کابینہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے لئے معاوضہ کی منظوری بھی دی، سانحہ گل پلازہ کے شہداء کے اہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ متاثرہ دکانداروں کو پانچ پانچ لاکھ روپے کچن اور یوٹیلیٹی اخراجات کے لیے کمشنر کے ذریعے ادا کیے جا رہے ہیں، ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ متاثرین کو ہر ممکن ریلیف فراہم کریں۔
کابینہ نے متاثرہ دکانداروں کو ایک ایک کروڑ روپے بلا سود قرضہ فراہم کرنے کی منظوری دی، مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ قرضہ دکانداروں کے دوبارہ کاروبار شروع کرنے کے لیے دیا جا رہا ہے، ایک کروڑ روپے پر واجب الادا سود حکومت سندھ ادا کرے گی۔
تمام متاثرہ دکانداروں کو دو ماہ کے اندر کاروبار شروع کرنے کے لیے دکان کی سہولت فراہم کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ہم دکانداروں کے تحفظ اور سہولت کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: متاثرہ دکانداروں کو سانحہ گل پلازہ سندھ کابینہ نے ایک کروڑ روپے مراد علی شاہ کی منظوری سب کمیٹی سندھ کا کے لیے کو ایک
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز