کریئیٹر اکانومی کا نیا دور، ٹک ٹاک اسٹار کھابے لامے کا کروڑوں ڈالر کا معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
سینیگال سے تعلق اور ٹک ٹاک پر سب سے زیادہ فالورزرکھنے والے کھابے لامے نے ایک امریکی کمپنی سے تقریباً 90 کروڑ ڈالر مالیت کا ایک تاریخی تجارتی معاہدہ کیا ہے۔
اس معاہدے کو عالمی سطح پر کسی ڈیجیٹل کریئیٹر کی جانب سے کی گئی اب تک کی سب سے بڑی اور اہم مالیاتی پیش رفتوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معروف ٹک ٹاکر کھابے لامے کی امریکا میں گرفتاری اور پھر ملک بدری، اصل معاملہ کیا ہے؟
امریکی اسٹاک ایکسچینج میں درج کمپنی رچ اسپارکل ہولڈنگز نے ایک معاہدے کے تحت شہرت یافتہ ٹک ٹاکر کھابے لامے کی کمپنی اسٹیپ ڈسٹنکٹو لمیٹڈ کے ایک حصے کو خرید لیا ہے۔
رچ اسپارکل نے اس خریداری کا اعلان ایک وسیع تر اسٹریٹجک شراکت داری کے ساتھ کیا ہے، جس کا مقصد کھابے لامے کی تجارتی سرگرمیوں کو عالمی سطح پر وسعت دینا ہے۔
Khaby Lame turned silent reactions into a global empire.
More #OnTheGrio: https://t.co/b5hP6CRbvV
— theGrio.com (@theGrio) January 27, 2026
معاہدے کے مطابق، رچ اسپارکل اپنے آپریٹنگ شراکت داروں کے ذریعے ابتدائی طور پر 36 ماہ کے لیے کھابے لامے کی عالمی کمرشل سرگرمیوں پر خصوصی حقوق حاصل کرے گی۔
ان حقوق میں برانڈ پارٹنرشپس، توثیقی معاہدے، لائسنسنگ اور ای۔کامرس منصوبے شامل ہیں، جو روایتی انفلوئنسر مارکیٹنگ سے ہٹ کر ایک پلیٹ فارم پر مبنی کاروباری ماڈل کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ٹک ٹاک نے مختصر ڈراموں کی نئی ایپ متعارف کرادی
رچ اسپارکل کا اندازہ ہے کہ ٹریفک، آرڈر کی تکمیل، آپریشنز اور ملکیتی ٹیکنالوجی پر مشتمل مربوط نظام، مکمل نفاذ کے بعد سالانہ 4 ارب ڈالر سے زائد کی فروخت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس معاہدے کے تحت کھابے لامے رچ اسپارکل ہولڈنگز کے کنٹرولنگ شیئر ہولڈر بھی بن جائیں گے، جس سے وہ محض ایک تخلیقی شراکت دار نہیں بلکہ اپنے برانڈ کے گرد قائم کمرشل انفرا اسٹرکچر میں براہِ راست حصص رکھنے والے فریق کے طور پر سامنے آئیں گے۔
مزید پڑھیں: پاکستانیوں نے 2025 میں ٹک ٹاک پر سب سے زیادہ کیا سرچ کیا؟ تفصیلات جاری
کمپنی کے مطابق، یہ صرف حصص کی خریداری نہیں بلکہ عالمی مواد اور ای کامرس ماڈل میں ایک انقلاب ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی لسٹڈ پلیٹ فارم، عالمی سطح پر پہچانی جانے والی مواد کی دانشورانہ ملکیت اور سپلائی چین کی مہارت کا امتزاج شیئر ہولڈرز کے لیے غیر معمولی قدر پیدا کر سکتا ہے۔
کمرشل حکمتِ عملی کا آغاز ابتدائی طور پر امریکا، مشرقِ وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا میں کیا جائے گا، جبکہ اس پر عمل درآمد آئندہ 3 برسوں میں مرحلہ وار ہوگا۔
رچ اسپارکل اس منصوبے میں چین کی کمپنی انہوئی شیاوہے یانگ نیٹ ورک ٹیکنالوجی کے ساتھ کام کرے گی، جو بڑے پیمانے پر کریئیٹر لیڈ ای کامرس کا تجربہ رکھتی ہے۔
شہرت کا سفرکھابے لامے نے بغیر کسی مکالمے کے، سادہ اور مزاحیہ ویڈیوز کے ذریعے عالمی شہرت حاصل کی، جن میں وہ پیچیدہ لائف ہیکس کو نہایت سادگی سے بے نقاب کرتے ہیں۔
ان کا خاموش انداز زبان کی رکاوٹوں سے بالاتر رہا، جس کے باعث وہ بہت کم وقت میں ایک متنوع اور عالمی ناظرین تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
مزید پڑھیں: ٹک ٹاک نے پاکستان میں چھوٹے کاروبار کی تشہیر کے لیے نیا فیچر متعارف کرا دیا
اس وقت کھابے لامے کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اندازاً 36 کروڑ فالوورز ہیں، جو انہیں دنیا کے سب سے بااثر ڈیجیٹل شخصیات میں شامل کرتا ہے اور ایک حقیقی معنوں میں عالمی سطح کے کریئیٹر کی مثال بناتا ہے۔
روایتی تجارت سے آگے بڑھتے ہوئے، اس معاہدے کے تحت کھابے لامے کے اے آئی پر مبنی ڈیجیٹل ٹوئنکی تیاری کی بھی اجازت دی گئی ہے، جس کے ذریعے ان کے چہرے کے خدوخال، آواز اور رویّوں کا ضابطے کے تحت استعمال ممکن ہوگا۔
مزید پڑھیں: معروف ٹک ٹاک اسٹار کو ویڈیو وائرل ہونے کے بعد موت کی دھمکیاں موصول
کمپنی کے مطابق اس ٹیکنالوجی سے کثیر لسانی مواد، ورچوئل لائیو اسٹریمز اور 24 گھنٹے صارفین سے رابطہ ممکن بنایا جا سکے گا۔
مزید برآں، اس حکمتِ عملی میں پریمیم برانڈ اشتراک اور مشترکہ دانشورانہ ملکیت بھی شامل ہے، جن کا اطلاق بیوٹی، خوشبویات اور ملبوسات جیسے شعبوں میں کیا جائے گا، یہ پیش رفت اس رجحان کو اجاگر کرتی ہے کہ کس طرح کریئیٹر کا اثر و رسوخ طویل المدتی، صنعتی پیمانے کے کاروبار میں تبدیل ہو رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹاک ایکسچینج انفلوئنسر مارکیٹنگ ای کامرس پلیٹ فارم دانشورانہ ملکیت رچ اسپارکل سینیگال نیٹ ورک ٹیکنالوجی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹاک ایکسچینج انفلوئنسر مارکیٹنگ ای کامرس پلیٹ فارم دانشورانہ ملکیت رچ اسپارکل سینیگال نیٹ ورک ٹیکنالوجی کھابے لامے کی مزید پڑھیں رچ اسپارکل معاہدے کے عالمی سطح ٹک ٹاک کے لیے کے تحت
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔