Jasarat News:
2026-06-02@22:28:43 GMT

سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ، چاندی مہنگی ہو گئی

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ اس کے برعکس چاندی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج فی اونس سونے کی قیمت میں 15 ڈالر کی کمی ہوئی، جس کے بعد سونا 5 ہزار 082 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گیا۔ اسی طرح عالمی قیمتوں میں کمی کے اثرات مقامی مارکیٹ میں بھی واضح طور پر دیکھے گئے، جہاں فی تولہ سونے کی قیمت 1 ہزار 500 روپے کی کمی کے بعد 5 لاکھ 30 ہزار 562 روپے پر آ گئی جب کہ فی 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 1 ہزار 286 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 16 ہزار 980 روپے مقرر ہو گئی۔

دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں فی تولہ چاندی کی قیمت 212 روپے بڑھ کر 11 ہزار 640 روپے کی نئی بلند سطح پر پہنچ گئی۔ اسی طرح فی 10 گرام چاندی کی قیمت میں 182 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد قیمت 9 ہزار 979 روپے ہو گئی۔

یاد رہے کہ اس سے ایک روز قبل بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا تھا، جب فی اونس سونا اچانک 109 ڈالر بڑھ کر 5 ہزار 097 ڈالر کی نئی بلند سطح پر پہنچ گیا تھا۔ عالمی مارکیٹ میں اس اضافے کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں تیزی دیکھی گئی تھی۔

گزشتہ روز مقامی سطح پر فی تولہ سونے کی قیمت میں 10 ہزار 900 روپے کا بڑا اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد قیمت 5 لاکھ 32 ہزار 062 روپے تک پہنچ گئی تھی جب کہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 9 ہزار 345 روپے بڑھ کر 4 لاکھ 56 ہزار 157 روپے ہو گئی تھی۔

اسی طرح گزشتہ روز چاندی کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جب فی تولہ چاندی کی قیمت 537 روپے بڑھ کر 11 ہزار 428 روپے تک پہنچ گئی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سونے کی قیمت میں چاندی کی قیمت مارکیٹ میں جس کے بعد میں بھی فی تولہ گئی تھی بڑھ کر ہو گئی

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر