Jang News:
2026-07-24@10:34:20 GMT

وادیٔ تیراہ میں آپریشن مفروضہ ہے: وفاقی حکومت

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

وادیٔ تیراہ میں آپریشن مفروضہ ہے: وفاقی حکومت

—جیو نیوز گریب

وفاقی حکومت نے وادیٔ تیراہ میں آپریشن کو مفروضہ قرار دے دیا اور صوبائی حکومت پر معاملے پر سیاست کرنے کا الزام لگا دیا۔

اسلام آباد میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے وزیرِ اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ اور کوآرڈینیٹر اختیار ولی کے ہمراہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ وادیٔ تیرہ میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا۔

ان کا کہنا ہے کہ برف باری میں ہر سال نقل مکانی ہوتی ہے، یہ کوئی کرائسز نہیں ہے جسے کرائسز کی شکل دی جا رہی ہے، وادیٔ تیراہ کے حوالے سے صوبائی حکومت اور جرگے کی مشاورت سے معاملات طے پائے۔

تیراہ نقل مکانی، KP حکومت ذمہ دار، DC خیبر نے 28 اکتوبر کو ہی آگاہ کردیا تھا، صوبائی حکومت پیشگی اقدامات نہ کرسکی، ہزاروں شہری برف باری میں پھنس گئے

پشاور ضلع خیبر کے علاقے تیراہ سے ممکنہ عارضی اور .

..

وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اور جرگے کے درمیان کہیں بھی فوج نہیں، کے پی حکومت اپنی ناکامی کا ملبہ فوج یا ایسے آپریشن پر ڈالنا چاہتی ہے جس کا وجود نہیں، نقل مکانی معمول کی بات ہے، نوٹیفکیشن صوبائی حکومت کا ہے، وہ واپس لے لے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ایگریمنٹ صوبائی حکومت اور جرگے میں طے پایا، نوٹیفکیشن شائع ہوا، صوبائی حکومت نے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے 4 ارب روپے کے فنڈز رکھے۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ وادیٔ تیراہ کے اندر کالعدم ٹی ٹی پی کے 5 سو لوگ موجود ہیں، جرگے کے ارکان کالعدم ٹی ٹی پی کے پاس گئے، کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگ بال بچوں کے ساتھ وہاں رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہوتے ہیں، ہمیں جہاں اطلاع ملتی ہے ہم وہاں جاتے ہیں اور آپریشن کرتے ہیں۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ وادیٔ تیراہ میں کوئی تھانہ نہیں ہے، 17 ہزار فٹ کی اونچائی ہے اور سخت سردی ہوتی ہے، برف باری کے دوران پاک افغان سرحد پر واقع وادیوں سے نقل مکانی ہوتی ہے جو معمول کی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور جرگے کی مشاورت کے بعد نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جرگے میں طے پایا کہ علاقے میں مراکزِ صحت، اسکول اور تھانے قائم کیے جائیں گے، صوبائی حکومت اور جرگے کے درمیان کہیں بھی فوج نظر نہیں آ رہی۔

وادیٔ تیراہ سے انخلاء پر وفاقی حکومت کا بیان بے بنیاد ہے: شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ پوری قوم جان چکی ہے کہ وادی تیراہ سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ وادیٔ تیراہ میں کئی سالوں سے آپریشن نہیں ہوا، یہ سب مفروضے ہیں، وادیٔ تیراہ کے عوام کی فلاح و بہبود ترجیح ہے، برف باری کے دوران پاک افغان سرحد پر واقع وادیوں سے نقل مکانی ہوتی ہے، وادیٔ تیراہ میں بھی ہر سال برف باری سے نقل مکانی ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے 4 ارب روپے کے فنڈز رکھے ہیں، نقل مکانی کو بحران کی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ حالات بنائے گئے ہیں کہ جبری نقل مکانی کرائی جا رہی ہے۔

وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ 11، 25 اور 26 دسمبر کو مشران کالعدم ٹی ٹی پی کے پاس گئے، ان مشران نے پھر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سے ملاقات کی۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: صوبائی حکومت اور جرگے کالعدم ٹی ٹی پی کے نقل مکانی ہوتی ہے دفاع خواجہ ا صف کا کہنا ہے کہ تیراہ میں کہ وادی

پڑھیں:

پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟

پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔

اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔

تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں:

البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔

’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4  ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘

مزید پڑھیں:

گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔

’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘

انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:

’اگر ہفتے میں 2  دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘

ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔

گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔

’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز

متعلقہ مضامین

  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست