وادیٔ تیراہ میں آپریشن مفروضہ ہے: وفاقی حکومت
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
—جیو نیوز گریب
وفاقی حکومت نے وادیٔ تیراہ میں آپریشن کو مفروضہ قرار دے دیا اور صوبائی حکومت پر معاملے پر سیاست کرنے کا الزام لگا دیا۔
اسلام آباد میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے وزیرِ اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ اور کوآرڈینیٹر اختیار ولی کے ہمراہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ وادیٔ تیرہ میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا۔
ان کا کہنا ہے کہ برف باری میں ہر سال نقل مکانی ہوتی ہے، یہ کوئی کرائسز نہیں ہے جسے کرائسز کی شکل دی جا رہی ہے، وادیٔ تیراہ کے حوالے سے صوبائی حکومت اور جرگے کی مشاورت سے معاملات طے پائے۔
پشاور ضلع خیبر کے علاقے تیراہ سے ممکنہ عارضی اور .
وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اور جرگے کے درمیان کہیں بھی فوج نہیں، کے پی حکومت اپنی ناکامی کا ملبہ فوج یا ایسے آپریشن پر ڈالنا چاہتی ہے جس کا وجود نہیں، نقل مکانی معمول کی بات ہے، نوٹیفکیشن صوبائی حکومت کا ہے، وہ واپس لے لے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ ایگریمنٹ صوبائی حکومت اور جرگے میں طے پایا، نوٹیفکیشن شائع ہوا، صوبائی حکومت نے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے 4 ارب روپے کے فنڈز رکھے۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ وادیٔ تیراہ کے اندر کالعدم ٹی ٹی پی کے 5 سو لوگ موجود ہیں، جرگے کے ارکان کالعدم ٹی ٹی پی کے پاس گئے، کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگ بال بچوں کے ساتھ وہاں رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہوتے ہیں، ہمیں جہاں اطلاع ملتی ہے ہم وہاں جاتے ہیں اور آپریشن کرتے ہیں۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ وادیٔ تیراہ میں کوئی تھانہ نہیں ہے، 17 ہزار فٹ کی اونچائی ہے اور سخت سردی ہوتی ہے، برف باری کے دوران پاک افغان سرحد پر واقع وادیوں سے نقل مکانی ہوتی ہے جو معمول کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور جرگے کی مشاورت کے بعد نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جرگے میں طے پایا کہ علاقے میں مراکزِ صحت، اسکول اور تھانے قائم کیے جائیں گے، صوبائی حکومت اور جرگے کے درمیان کہیں بھی فوج نظر نہیں آ رہی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ پوری قوم جان چکی ہے کہ وادی تیراہ سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ وادیٔ تیراہ میں کئی سالوں سے آپریشن نہیں ہوا، یہ سب مفروضے ہیں، وادیٔ تیراہ کے عوام کی فلاح و بہبود ترجیح ہے، برف باری کے دوران پاک افغان سرحد پر واقع وادیوں سے نقل مکانی ہوتی ہے، وادیٔ تیراہ میں بھی ہر سال برف باری سے نقل مکانی ہوتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے 4 ارب روپے کے فنڈز رکھے ہیں، نقل مکانی کو بحران کی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ حالات بنائے گئے ہیں کہ جبری نقل مکانی کرائی جا رہی ہے۔
وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ 11، 25 اور 26 دسمبر کو مشران کالعدم ٹی ٹی پی کے پاس گئے، ان مشران نے پھر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سے ملاقات کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: صوبائی حکومت اور جرگے کالعدم ٹی ٹی پی کے نقل مکانی ہوتی ہے دفاع خواجہ ا صف کا کہنا ہے کہ تیراہ میں کہ وادی
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔