ملک میں تفریق پیدا ہو گئی، صوبے کا وفاق سے رشتہ آئینی: شاہد خاقان
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
پشاور:(نیوزڈیسک) سربراہ عوام پاکستان پارٹی شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک میں تفریق پیدا ہو گئی صوبے کا وفاق سے رشتہ آئین کے اندر لکھا گیا۔
خانہ فرہنگ ایران پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اگر دہشتگردی ہو رہی ہے تو اس کا مقابلہ کرنا ہم سب پر لازم ہے ، صوبہ کے چیف منسٹر کی عزت کرنا بھی ضروری ہے، یہ آئینی عہدے ہیں یہ عوامی منتخب نمائندے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ اب یہ ان کی بھی ذمہ داری ہے کہ عوام کی فلاح بہبود کے لئے کام کریں، اگر صوبے کے لئے وفاق مشکلات پیدا کرتا ہے تو ہم سب ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے، ملک میں تفریق پیدا ہو گئی ہے، صوبے کا وفاق سے رشتہ آئین کے اندر لکھا گیا ہے۔
سربراہ عوام پاکستان پارٹی کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت ہم سب کو صوبوں کا احترام کرنا چاہیے، ملک کے اندر سکیورٹی مسئلے پر یک زبان رہنا ضروری ہے، جو بھی آپس کی مشکلات ہیں رنجشیں ہیں ان کو دور کر کے یکجا ہونا ہوگا۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ صوبہ اکیلا نہیں چل سکتا، وفاق صوبہ کے ساتھ ہوگا تو چلے گا، ملک کے اندر قانون کا احترام نہیں ہوگا تو صوبہ کیسے ترقی کرے گا، نوجوانوں کو روزگار نعروں سے نہیں بلکہ ملکی معیشت مضبوط کرنے سے ملے گا ۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ پریس کانفرنس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا مل بیٹھ کر مسئلہ حل کرنا ہوگا، پی آئی اے کی نجکاری ہوئی تو اس سے حکومت کی جان چھوٹ گئی ہے ، پی آئی اے کی نجکاری کسی ایک شخص کے لئے نہیں کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شاہد خاقان کے اندر
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔