قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانی اور انسانی وسائل کی ترقی کے اجلاس کی صدارت سید رفیع اللہ نے کی۔ اجلاس میں بیرون ملک روزگار کے رجحانات، پاکستانی مزدوروں کے فلاحی مسائل اور کمیونٹی ویلفیئر اتاشیز (CWA) کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پاکستان یورپ فیڈریشن کے ارکان، بشمول چیئرمین ڈاکٹر پرویز اقبال لوہار کو بطور خصوصی مدعو شریک کیا گیا۔

اجلاس کے دوران خلیجی ممالک، جاپان، جنوبی کوریا اور ملائیشیا میں تعینات CWAs نے بریفنگ دی۔ کویت سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ ویزا کے پرانے مسائل حل ہونے کے بعد روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوا ہے اور تکنیکی ٹیم کے ذریعے اہم معاملات حل کیے گئے ہیں۔

کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ بار بار پیش آنے والے مسائل کے اسباب کو دور کرنا ضروری ہے اور پاکستان کی بیرون ملک شبیہ اور قوانین کی پاسداری بہتر بنائی جائے۔

مزید پڑھیں:سمندر پار پاکستانی ملکی تشخص اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں، وزیراعظم شہباز شریف

اجلاس میں فراڈ کمپنیوں اور ڈیپورٹیشن کے واقعات پر بھی تبادلہ خیال ہوا اور بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کو میزبان ملک کے قوانین، ویزا کی شرائط اور خلاف ورزیوں کے ممکنہ نتائج سے مکمل آگاہی دینے پر زور دیا گیا۔

سعودی عرب (جدہ اور ریاض) سے بریفنگ میں پاکستان کے لاکھوں مزدوروں کی موجودگی اور CWAs کی فلاحی خدمات، بشمول مزدور تنازعات، اختتامی مراعات، دیت کے معاملات، پھنسے یا فوت شدہ مزدوروں کی وطن واپسی، اور مقامی حکام و ملازمین کے ساتھ رابطوں پر روشنی ڈالی گئی۔

کمیٹی نے وراثتی سرٹیفکیٹ، اقامہ مسائل، تعلیمی سہولیات اور سعودی وژن 2030 کے تحت دیگر ملکوں سے مقابلے کو چیلنج قرار دیا۔

متحدہ عرب امارات (ابوظہبی اور دبئی) سے بریفنگ میں CWAs نے وفات شدہ مزدوروں کی واپسی، قیدیوں، بچوں اور دیگر شکایات کے امور اجاگر کیے۔ ممبران نے ویزٹ ویزا کے غلط استعمال، سفید کالر جرائم میں علاقائی حدود کے مسائل، اور UAE کے ساتھ سرکاری روزگار معاہدے کی عدم موجودگی پر تشویش ظاہر کی۔ کوریا میں ویلڈرز کی بھرتی کے مسائل پر بھی بات ہوئی۔

مزید پڑھیں: سمندر پار پاکستانی گرین پاکستان پروجیکٹ سے پُرامید، سرمایہ کاری کے خواہاں

کمیٹی نے متعدد سفارشات کیں جن میں بیرون ملک مزدوروں کے لیے منظم آگاہی پروگرام، CWA کی توسیع کے قانونی پہلوؤں کی وضاحت، اخراجات میں شفافیت، زیر التوا عوامی درخواستوں کا حل، اور ویزا اور قانونی دائرہ کار کے مسائل پر تفصیلی رپورٹنگ شامل ہیں۔

اجلاس میں ممبران قومی اسمبلی ڈاکٹر مہرین رضا بھٹو، ذوالفقار علی بھٹی، میاں خان بگٹی (ورچوئل)، ارم حامد، ماہ جبین خان عباسی، سعیدہ جمشید، ذوالفقار علی، فرحان چشتی، صوفیہ سعید (ورچوئل) اور وفاقی وزیر برائے بیرون ملک پاکستانی اور انسانی وسائل کی ترقی اور وزارت کے افسران بھی شریک تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سید رفیع اللہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانی کویت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سید رفیع اللہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانی کویت سمندر پار پاکستانی بیرون ملک اجلاس میں کمیٹی نے

پڑھیں:

کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔

گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟

کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔

نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔

گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم

نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ