’ڈومز ڈے کلاک‘ کا نیا وقت جاری؛ دنیا تباہی سے کتنی دور ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
غیر منافع بخش ادارے Bulletin of the Atomic Scientists نے سال 2026 کے لیے ڈومز ڈے کلاک کا نیا وقت جاری کر دیا ہے اور وقت کے مطابق دنیا خوفناک حد تک آدھی رات (Midnight) کے قریب پہنچ چکی ہے۔
یہ گھڑی ادارے کے سائنس اینڈ سیکیورٹی بورڈ (SASB) نے سیٹ کی ہے اور اب آدھی رات سے صرف 85 سیکنڈ دور ہے، جس نے دنیا کے انجام سے متعلق خدشات کو مزید ہوا دے دی ہے۔ واضح رہے گھڑی میں Midnight کا وقت تباہی کی علامت ہے۔
SASB کے ایک رکن نے اس خدشے کو بھی ظاہر کیا ہے کہ ٹرمپ کا قومی سلامتی کے لیے تجویز کردہ خصوصی ’گولڈن ڈوم‘ درحقیقت دنیا کے لیے خطرہ بن سکتا ہے اور خلا میں جنگ کا سبب بن سکتا ہے۔
اعلان کے دوران SASB نے ایٹمی خطرات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مزید خطرناک ہتھیار تیار کیے جا رہے ہیں اور اس وقت ایک اسلحے کی دوڑ جاری ہے۔ انہیں اندیشہ ہے کہ روس اور امریکا کے درمیان اسلحہ بنانے سے متلعق معاہدہ ختم ہو سکتا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک بڑے پیمانے پر ہتھیار ذخیرہ کر سکیں گے۔
SASB نے مزید خبردار کیا کہ ٹرمپ کا گولڈن ڈوم منصوبہ، جس کے تحت خلا میں ہتھیار رکھنے کی بات کی جا رہی ہے، روس اور چین کی جانب سے ردِعمل کو جنم دے سکتا ہے اور یوں خلائی جنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ٹرمپ حالیہ ہفتوں میں متعدد بار گولڈن ڈوم کا ذکر کر چکے ہیں اور یہ دعویٰ بھی کر چکے ہیں کہ گرین لینڈ پر ان کا کنٹرول اس منصوبے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سکتا ہے کے لیے ہے اور
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔