خواتین کو بااختیاربنانے کیلیے مؤثر قدم اٹھایا ہے،میرسرفرازبگٹی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ(نمائندہ جسارت)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں خواتین کو بااختیار بنانے اور پولیس نظام کو عوام دوست بنانے کی جانب ایک اور عملی اور مؤثر قدم اٹھایا گیا ہے، جس کے تحت نصیر آباد رینج کے تمام اضلاع میں خواتین پولیس اہلکاروں کو مختلف اہم اور ذمہ دارانہ عہدوں پر مؤثر انداز میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ خواتین پولیس اہلکار اب مختلف تھانوں میں کمپلینٹ آفیسر، نائب محرر، کمپیوٹر آپریٹر سمیت دیگر انتظامی و فیصلہ ساز ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔ ان تعیناتیوں کے نتیجے میں خواتین اہلکاروں نے گھریلو تشدد سمیت خواتین اور عام شہریوں کو درپیش مسائل کی شنوائی اور فوری حل کے لیے فعال اور متحرک کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے عوامی اعتماد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس اقدام پر آئی جی پولیس بلوچستان اور ڈی آئی جی نصیر آباد رینج کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ خواتین اہلکاروں کی مکمل صلاحیتوں سے استفادہ بہتر پولیسنگ، مؤثر سروس ڈیلیوری اور عوامی سہولیات میں بہتری کا باعث ثابت ہوگا انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات کے ذریعے پولیس اسٹیشنز میں خواتین سمیت تمام سائلین کیلیے ایک محفوظ، باوقار اور اعتماد پر مبنی ماحول کی فراہمی ممکن بنائی جا رہی ہے، تاکہ عوام بلا خوف و جھجک اپنی شکایات درج کروا سکیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان اقدامات سے نہ صرف پولیس نظام مزید مضبوط ہوگا بلکہ خواتین کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بھی بڑھے گا، جو ایک مہذب اور منصفانہ معاشرے کے قیام کیلیے ناگزیر ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں خواتین کو ہر شعبے میں مساوی مواقع فراہم کرنا صوبائی حکومت کے جامع وڑن اور اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے، اور حکومت اس سمت میں عملی اقدامات کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں خواتین وزیر اعلی نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔