انجنیئر محمد علی مرزا کیخلاف گستاخی سے متعلق کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل کو طلب کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ نے انجنیئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا مرتکب قرار دینے سے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے معطل رکھنے کے حکم میں 7 اپریل تک توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل آف پاکستان سے معاونت طلب کر لی ہے۔
یہ سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کے خلاف درخواست گزار اسلم خاکی کی درخواست پر کی۔ عدالتی حکم کے باوجود دورانِ سماعت اٹارنی جنرل آف پاکستان عدالت میں پیش نہ ہو سکے۔
اس موقع پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن نے عدالت کو بتایا کہ اٹارنی جنرل دیگر مصروفیات کے باعث حاضر نہیں ہو سکتے، تاہم اگر عدالت اجازت دے تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل پیش ہو سکتے ہیں۔ جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے واضح ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے پہلے بھی ہدایت دی تھی کہ اس کیس میں اٹارنی جنرل ہی پیش ہوں گے اور عدالتی معاونت فراہم کریں گے۔
اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ ایک تاریخ دے دی جائے تاکہ آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل خود پیش ہو سکیں۔ عدالت نے یہ درخواست منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 7 اپریل تک ملتوی کر دی۔
سماعت کے دوران درخواست گزار اسلم خاکی، اسلامی نظریاتی کونسل کے وکیل اور متعلقہ عدالتی حکام پیش ہوئے۔ درخواست گزار نے انجنیئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا مرتکب قرار دینے سے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسلامی نظریاتی کونسل اٹارنی جنرل پیش ہو
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔