امریکہ ایران پر کیسا حملہ کرے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: ایک مسلمان ہونے کے ناطے سے بھی ہمیں خدا کی نصرت پر کامل یقین ہونا چاہیئے۔ "يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُركُم وَيُثَبِّت أَقدامَكُم۔" رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے بقول ہم سب جانتے ہیں کہ جب ہم خدا کی راہ میں کوئی کام کرتے ہیں، حرکت کرتے ہیں، حتی بولتے ہیں، خدا ہماری مدد کرتا ہے۔۔ یہ خدا کا وعدہ ہے: "اِن تَنصُرُوا اللَهَ یَنصُرکُم وَ لَیَنصُرَنَّ اللَهُ مَن یَنصُرُه.
آجکل دنیا کی اہم ترین خبروں میں سے ایک ایران پر امریکہ کے حملے کی خبر ہے۔ نجی محفلوں سے بڑے بڑے سیمیناروں اور تھنک ٹینکس میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ امریکہ کب، کیسے اور کس طرح ایران پر چڑھائی کرے گا۔ ادھر حالیہ دنوں میں امریکی حکام نے کئی بار ایران کو فوجی حملے کی دھمکیاں دی ہیں، لیکن ایک سوال یہ ہے کہ اگر امریکی حملہ یقینی ہے تو یہ کس مقصد کے لئے کیا جائے گا اور اسے کس کام کے لیے استعمال کیا جائے گا۔؟ ماضی کی تاریخ شاہد ہے کہ امریکہ برسوں سے ایران کو "جنگ کی تصویر" سے ڈرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کبھی آل آپشن آن ٹیبل، کبھی بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے ساتھ، کبھی فوجی خطرات، کبھی ملک کو تقسیم کرنے کی بات سے، کبھی کمانڈروں اور سائنسدانوں کے قتل سے، کبھی مختلف سکیورٹی حالات پیدا کرکے خوف کی فضا ایجاد کرکے ایرانی معاشرے کے ذہنوں کو مشتعل اور بے چین کر رہا ہے۔
امریکہ اپنی عسکری نقل و حرکت کی خبروں سے میڈیا کو بھی مسلسل سیراب کرتا چلا آرہا ہے۔ اس دوران ایران سے باہر موجود انقلاب مخالف فارسی چینل اور میڈیا نیٹ ورکس بھی بغیر کسی رکاوٹ کے اور سانس روکے بغیر امریکی حملے کے وقوع پذیر ہونے کے بارے میں بے لاگ تبصرہ کر رہے ہیں۔ خبروں میں منظر کشی کی جا رہی ہے۔ امریکی جنگی بیڑہ وہاں سے چل پڑا، فلاں جگہ رکا ہے۔ اس بندرگاہ سے جہاز میں ایندھن بھر دیا گیا اور جنگی بیڑہ فوجی آپریشن کے لیے تیار ہوگیا ہے۔ ہوائی جہاز سے فوجی اترتے اور چڑھتے ہوئے دکھائے جا رہے ہیں۔ مختلف پروازوں کی تصاویر شائع کی گئیں اور اس سے مزید آگے بڑھ کر ایران میں جہاں حملے ہونے ہیں، ان "حتمی اہداف کی فہرست" کے بارے میں بھی تبصرےکئے جا رہے ہیں۔
آئیے ایک لمحے کے لیے فرض کر لیتے ہیں کہ جنگ حتمی ہے۔ صرف چند ماہ قبل ایران نے اپنے تمام تر دعووں کے باوجود اسرائیل کو ایک حقیقی جنگ میں پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر دیا تھا۔ اب، ایک امریکی بحری جہاز سے ڈرایا جا رہا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ بحری جہاز کیا ہے۔؟ بالآخر، یہ ایک اچھی طرح سے لیس تیرتی گیریژن یا چھاؤنی کے برابر ہے۔ کیا وہ واقعی ایران جیسے ملک کو ایک یا دو اس طرح کی تیرتی فوجی چھاؤنیوں سے دھمکانا چاہتے ہیں۔؟ اسرائیل اپنے تمام تر جدید آلات کے ساتھ اور خطے سے آشنائی اور داخلی ایجنٹوں کی مدد کے باوجود ایرانی حملوں کے خلاف دو ہفتے بھی تاب نہیں لا سکا۔ اب، ایک امریکی بحری جہاز کیا کر لے گا۔؟ ان امریکی جہازوں پر کونسا سامان نصب ہے، جو اسرائیل کے پاس نہیں تھا۔؟
حقیقت یہ ہے کہ صرف ایک ایرانی میزائل ان بحری جہازوں میں سے کسی ایک پر اپنا نشان چھوڑنے کے لیے کافی ہے، جو امریکی شہریوں کو سڑکوں پر لے آئے گا۔ امریکی جہاز کی تباہ شدہ ایک تصویر امریکیوں کو دہائیاں پیچھے کر دے گی۔ امریکی، جن کا دنیا پر غلبہ حقیقی جنگ سے زیادہ "تصوراتی طاقت" سے قائم ہوا ہے، اگر یہ امیج اور تصویر داغدار ہوئی تو ان کے وقار کو ناقابل تلافی دھچکا لگے گا۔ یمن کو یاد رکھیں۔ کیا امریکی بھول گئے ہیں کہ یمنیوں نے امریکہ کے ساتھ کیا کیا۔؟ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز "ہیری ٹرومین" اس خطے سے ایسے پیچھے ہٹ گیا کہ اس کی سکیورٹی اور حفاظت کے لیے اس کی کوئی واضح تصویر بھی میڈیا کو جاری نہیں کی گئی۔
کسی بھی جنگ میں، جوابی کارروائی ناگزیر ہے۔ ہمیں حقیقت پسند ہونا چاہیئے کہ ایران کے ساتھ جنگ خطرناک اور بہت مہنگی ہوگی اور امریکہ کے لیے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے امکانات بھی بہت کم ہیں۔ بہرحال اس وقت امریکی فوج کی نقل و حرکت اور ٹرمپ کے کچھ دعوؤں نے دنیا کے ایک بڑے حصے کے ذہن میں "جنگ" کا خیال پیدا کر دیا ہے۔ جنگ ہوگی یا نہیں، یہ بحث کا موضوع ہے۔ لیکن جو بات واضح ہے، وہ یہ ہے کہ ایسی کئی سنجیدہ اور ٹھوس وجوہات موجود ہیں، جو امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے سے روک رہی ہیں۔ یہاں زیادہ اہم نکتہ یہ ہے کہ ہمیں امریکہ کے اس اہم منصوبے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے: "خوف اور غصے سے عوام کو سڑکوں پر نکالنے کا منصوبہ۔"
بنیادی مقصد ذہنی طور پر شکست دینا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایرانی ذہن تھک جائے، پریشان ہو جائے، بے چین ہو جائے اور نا امیدی کے بھنور میں پھنس جائے۔ ملک کی سلامتی سے مایوس اور خوفزدہ ہو جائے اور اپنے معاشی مستقبل کے بارے میں تعطل محسوس کرنے لگے۔ یہ صورتحال بلاشبہ بعض اوقات جنگ سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ ایک سخت یعنی ہتھیاروں کی جنگ امریکہ کے لیے مہنگی ہے، لیکن "ذہنی کشمکش"، "نفسیاتی جنگ" کم لاگت اور بہت زیادہ منافع بخش ہے۔ اگر ہم جنگ کے امکان پر غور کریں تو ہمیں معلوم ہونا چاہیئے کہ نفسیاتی جنگ اور کشمکش کا منصوبہ یقینی ہے، جاری ہے اور یہی وہ منصوبہ ہے، جسے بے اثر اور ناکام ہنانا چاہیئے۔ بنیادی حل میدان کی حقیقی داستان ہے اور ایک بیانیہ کی تشکیل ہے۔ ایران کے ساتھ تصادم کی 20 سال سے زیادہ تیاری کے بعد امریکہ اور اسرائیل کو 12 روزہ جنگ میں شکست ہوئی اور خود انہوں نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
جنگ کے بعد انہوں نے معاش پر دوہرا دباؤ ڈال کر ایرانی عوام اور حکومت کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کی، لیکن عوام نے معاشی مسائل اور اندرونی کمزوریوں کے باوجود صورتحال کو سمجھا اور دشمن کے حملوں کو جاری رکھنے سے روکنے کے لئے میدان میں اترے اور نتیجہ کیا نکلا؟ ایک بار پھر، امریکہ کی پسپائی۔ ان حقائق کو بیان کرنا ضروری ہے۔ شفاف، دستاویزی ثبوتوں اور تسلسل کے ساتھ، کیونکہ آج کی جنگ، فوجی ہونے سے پہلے، بیانیے اور ذہنوں کی جنگ ہے۔ اس جنگ میں جس کا بیانیہ مضبوط اور مقبول ہے، وہی فاتح ہے۔ امریکہ کے بارے میں یہ تبصرہ تھنک ٹینکس کا متفقہ تبصرہ ہے کہ امریکہ کو گذشتہ چند دہائیوں میں کسی بھی جنگ میں کامیابی نہیں ملی اور نہ ہی وہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔
ایک مسلمان ہونے کے ناطے سے بھی ہمیں خدا کی نصرت پر کامل یقین ہونا چاہیئے۔ "يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُركُم وَيُثَبِّت أَقدامَكُم۔" رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے بقول ہم سب جانتے ہیں کہ جب ہم خدا کی راہ میں کوئی کام کرتے ہیں، حرکت کرتے ہیں، حتی بولتے ہیں، خدا ہماری مدد کرتا ہے۔۔ یہ خدا کا وعدہ ہے: "اِن تَنصُرُوا اللَهَ یَنصُرکُم وَ لَیَنصُرَنَّ اللَهُ مَن یَنصُرُه."، "اگر تم خدا کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور اللہ اس کی مدد کرے گا، جو اس کی مدد کرتا ہے۔" کبھی کبھی ہم مدد کے طریقے کو سمجھ جاتے ہیں اور پہچان جاتے ہیں، کبھی کبھی ہم اسے نہیں سمجھتے، درک نہیں کر پاتے، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری مدد کی گئی، ہم دیکھتے ہیں کہ کام ہو گیا، کام آگے بڑھ گیا۔ یہ خدا کی مدد ہے. آئیے اپنے ارادوں کو الہیٰ بنائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ن ت نص ر وا الل کبھی کبھی ہم ہونا چاہیئے کے بارے میں مدد کرتا ہے مدد کرے گا خدا کی مدد بحری جہاز امریکہ کے اس کی مدد کرتے ہیں جاتے ہیں یہ ہے کہ کے ساتھ نہیں کر کی جنگ رہا ہے کے لیے یہ خدا
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔