Islam Times:
2026-07-24@09:27:38 GMT

امریکہ ایران پر کیسا حملہ کرے گا؟

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

امریکہ ایران پر کیسا حملہ کرے گا؟

اسلام ٹائمز: ایک مسلمان ہونے کے ناطے سے بھی ہمیں خدا کی نصرت پر کامل یقین ہونا چاہیئے۔ "يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُركُم وَيُثَبِّت أَقدامَكُم۔" رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے بقول ہم سب جانتے ہیں کہ جب ہم خدا کی راہ میں کوئی کام کرتے ہیں، حرکت کرتے ہیں، حتی بولتے ہیں، خدا ہماری مدد کرتا ہے۔۔ یہ خدا کا وعدہ ہے: "اِن تَنصُرُوا اللَهَ یَنصُرکُم وَ لَیَنصُرَنَّ اللَهُ مَن یَنصُرُه.

"، "اگر تم خدا کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور اللہ اس کی مدد کرے گا، جو اس کی مدد کرتا ہے۔" کبھی کبھی ہم مدد کے طریقے کو سمجھ جاتے ہیں اور پہچان جاتے ہیں، کبھی کبھی ہم اسے نہیں سمجھتے، درک نہیں کر پاتے، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری مدد کی گئی، ہم دیکھتے ہیں کہ کام ہو گیا، کام آگے بڑھ گیا۔ یہ خدا کی مدد ہے. آئیے اپنے ارادوں کو الہیٰ بنائیں۔ تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

آجکل دنیا کی اہم ترین خبروں میں سے ایک ایران پر امریکہ کے حملے کی خبر ہے۔ نجی محفلوں سے بڑے بڑے سیمیناروں اور تھنک ٹینکس میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ امریکہ کب، کیسے اور کس طرح ایران پر چڑھائی کرے گا۔ ادھر حالیہ دنوں میں امریکی حکام نے کئی بار ایران کو فوجی حملے کی دھمکیاں دی ہیں، لیکن ایک سوال یہ ہے کہ اگر امریکی حملہ یقینی ہے تو یہ کس مقصد کے لئے کیا جائے گا اور اسے کس کام کے لیے استعمال کیا جائے گا۔؟ ماضی کی تاریخ شاہد ہے کہ امریکہ برسوں سے ایران کو "جنگ کی تصویر" سے ڈرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کبھی آل آپشن آن ٹیبل، کبھی بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے ساتھ، کبھی فوجی خطرات، کبھی ملک کو تقسیم کرنے کی بات سے، کبھی کمانڈروں اور سائنسدانوں کے قتل سے، کبھی مختلف سکیورٹی حالات پیدا کرکے خوف کی فضا ایجاد کرکے ایرانی معاشرے کے ذہنوں کو مشتعل اور بے چین کر رہا ہے۔

امریکہ اپنی عسکری نقل و حرکت کی خبروں سے میڈیا کو بھی مسلسل سیراب کرتا چلا آرہا ہے۔ اس دوران ایران سے باہر موجود انقلاب مخالف فارسی چینل اور میڈیا نیٹ ورکس بھی بغیر کسی رکاوٹ کے اور سانس روکے بغیر امریکی حملے کے وقوع پذیر ہونے کے بارے میں بے لاگ تبصرہ کر رہے ہیں۔ خبروں میں منظر کشی کی جا رہی ہے۔ امریکی جنگی بیڑہ وہاں سے چل پڑا، فلاں جگہ رکا ہے۔ اس بندرگاہ سے جہاز میں ایندھن بھر دیا گیا اور جنگی بیڑہ فوجی آپریشن کے لیے تیار ہوگیا ہے۔ ہوائی جہاز سے فوجی اترتے اور چڑھتے ہوئے دکھائے جا رہے ہیں۔ مختلف پروازوں کی تصاویر شائع کی گئیں اور اس سے مزید آگے بڑھ کر ایران میں جہاں حملے ہونے ہیں، ان  "حتمی اہداف کی فہرست" کے بارے میں بھی تبصرےکئے جا رہے ہیں۔

 آئیے ایک لمحے کے لیے فرض کر لیتے ہیں کہ جنگ حتمی ہے۔ صرف چند ماہ قبل ایران نے اپنے تمام تر دعووں کے باوجود اسرائیل کو ایک حقیقی جنگ میں پیچھے ہٹنے پر مجبور  نہیں کر دیا تھا۔ اب، ایک امریکی بحری جہاز سے ڈرایا جا رہا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ بحری جہاز کیا ہے۔؟ بالآخر، یہ ایک اچھی طرح سے لیس تیرتی گیریژن یا چھاؤنی کے برابر ہے۔ کیا وہ واقعی ایران جیسے ملک کو ایک یا دو اس طرح کی تیرتی فوجی چھاؤنیوں سے دھمکانا چاہتے ہیں۔؟ اسرائیل اپنے تمام تر جدید آلات کے ساتھ اور خطے سے آشنائی اور داخلی ایجنٹوں کی مدد کے باوجود ایرانی حملوں کے خلاف دو ہفتے بھی تاب نہیں لا سکا۔ اب، ایک امریکی بحری جہاز کیا کر لے گا۔؟ ان  امریکی جہازوں پر کونسا سامان نصب ہے، جو اسرائیل کے پاس نہیں تھا۔؟

حقیقت یہ ہے کہ صرف ایک ایرانی میزائل ان بحری جہازوں میں سے کسی ایک پر اپنا نشان چھوڑنے کے لیے کافی ہے، جو امریکی شہریوں کو سڑکوں پر لے آئے گا۔ امریکی جہاز کی تباہ شدہ ایک تصویر امریکیوں کو دہائیاں پیچھے کر دے گی۔ امریکی، جن کا دنیا پر غلبہ حقیقی جنگ سے زیادہ "تصوراتی طاقت" سے قائم ہوا ہے، اگر یہ امیج اور تصویر داغدار ہوئی تو ان کے وقار کو ناقابل تلافی دھچکا لگے گا۔ یمن کو یاد رکھیں۔ کیا امریکی بھول گئے ہیں کہ یمنیوں نے امریکہ کے ساتھ کیا کیا۔؟ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز "ہیری ٹرومین" اس خطے سے ایسے پیچھے ہٹ گیا کہ اس کی سکیورٹی اور حفاظت کے لیے اس کی کوئی واضح تصویر بھی میڈیا کو جاری نہیں کی گئی۔

 کسی بھی جنگ میں، جوابی کارروائی ناگزیر ہے۔ ہمیں حقیقت پسند ہونا چاہیئے کہ ایران کے ساتھ جنگ ​​خطرناک اور بہت مہنگی ہوگی اور امریکہ کے لیے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے امکانات بھی بہت کم ہیں۔ بہرحال اس وقت امریکی فوج کی نقل و حرکت اور ٹرمپ کے کچھ دعوؤں نے دنیا کے ایک بڑے حصے کے ذہن میں "جنگ" کا خیال پیدا کر دیا ہے۔ جنگ ہوگی یا نہیں، یہ بحث کا موضوع ہے۔ لیکن جو بات واضح ہے، وہ یہ ہے کہ ایسی کئی سنجیدہ اور ٹھوس وجوہات موجود ہیں، جو امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے سے روک رہی ہیں۔ یہاں زیادہ اہم نکتہ یہ ہے کہ ہمیں امریکہ کے اس اہم منصوبے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے: "خوف اور غصے سے عوام کو سڑکوں پر نکالنے کا منصوبہ۔"

بنیادی مقصد ذہنی طور پر شکست دینا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایرانی ذہن تھک جائے، پریشان ہو جائے، بے چین ہو جائے اور نا امیدی کے بھنور میں پھنس جائے۔ ملک کی سلامتی سے مایوس اور خوفزدہ ہو جائے اور اپنے معاشی مستقبل کے بارے میں تعطل محسوس کرنے لگے۔ یہ صورتحال بلاشبہ بعض اوقات جنگ سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ ایک سخت یعنی ہتھیاروں کی جنگ امریکہ کے لیے مہنگی ہے، لیکن "ذہنی کشمکش"، "نفسیاتی جنگ" کم لاگت اور بہت زیادہ منافع بخش ہے۔ اگر ہم جنگ کے امکان پر غور کریں تو ہمیں معلوم ہونا چاہیئے کہ نفسیاتی جنگ اور کشمکش کا منصوبہ یقینی ہے، جاری ہے اور یہی وہ منصوبہ ہے، جسے بے اثر اور ناکام ہنانا چاہیئے۔ بنیادی حل میدان کی حقیقی داستان ہے اور ایک بیانیہ کی تشکیل ہے۔ ایران کے ساتھ تصادم کی 20 سال سے زیادہ تیاری کے بعد امریکہ اور اسرائیل کو 12 روزہ جنگ میں شکست ہوئی اور خود انہوں نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

جنگ کے بعد انہوں نے معاش پر دوہرا دباؤ ڈال کر ایرانی عوام اور حکومت کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کی، لیکن عوام نے معاشی مسائل اور اندرونی کمزوریوں کے باوجود صورتحال کو سمجھا اور دشمن کے حملوں کو جاری رکھنے سے روکنے کے لئے میدان میں اترے اور نتیجہ کیا نکلا؟ ایک بار پھر، امریکہ کی پسپائی۔ ان حقائق کو بیان کرنا ضروری ہے۔ شفاف، دستاویزی ثبوتوں اور تسلسل کے ساتھ، کیونکہ آج کی جنگ، فوجی ہونے سے پہلے، بیانیے اور ذہنوں کی جنگ ہے۔ اس جنگ میں جس کا بیانیہ مضبوط اور مقبول ہے، وہی فاتح ہے۔ امریکہ کے بارے میں یہ تبصرہ تھنک ٹینکس کا متفقہ تبصرہ ہے کہ امریکہ کو گذشتہ چند دہائیوں میں کسی بھی جنگ میں کامیابی نہیں ملی اور نہ ہی وہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

ایک مسلمان ہونے کے ناطے سے بھی ہمیں خدا کی نصرت پر کامل یقین ہونا چاہیئے۔ "يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُركُم وَيُثَبِّت أَقدامَكُم۔" رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے بقول ہم سب جانتے ہیں کہ جب ہم خدا کی راہ میں کوئی کام کرتے ہیں، حرکت کرتے ہیں، حتی بولتے ہیں، خدا ہماری مدد کرتا ہے۔۔ یہ خدا کا وعدہ ہے: "اِن تَنصُرُوا اللَهَ یَنصُرکُم وَ لَیَنصُرَنَّ اللَهُ مَن یَنصُرُه."، "اگر تم خدا کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور اللہ اس کی مدد کرے گا، جو اس کی مدد کرتا ہے۔" کبھی کبھی ہم مدد کے طریقے کو سمجھ جاتے ہیں اور پہچان جاتے ہیں، کبھی کبھی ہم اسے نہیں سمجھتے، درک نہیں کر پاتے، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری مدد کی گئی، ہم دیکھتے ہیں کہ کام ہو گیا، کام آگے بڑھ گیا۔ یہ خدا کی مدد ہے. آئیے اپنے ارادوں کو الہیٰ بنائیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ن ت نص ر وا الل کبھی کبھی ہم ہونا چاہیئے کے بارے میں مدد کرتا ہے مدد کرے گا خدا کی مدد بحری جہاز امریکہ کے اس کی مدد کرتے ہیں جاتے ہیں یہ ہے کہ کے ساتھ نہیں کر کی جنگ رہا ہے کے لیے یہ خدا

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران