پاکستان ریلوے ویگنز اور کوچز 5 ممالک کو ایکسپورٹ کرے گا: حنیف عباسی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ پاکستان ریلوے ویگنز اور کوچز 5 ممالک کو ایکسپورٹ کرنے جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلوے نے دسمبر میں 10 ارب روپےکی آمدن حاصل کی جو ایک ریکارڈ ہے، ریکارڈ آمدن حاصل کرنے کیلئے ہم نے مسافروں کو سہولت فراہم کیں۔
انہوں نے کہا کہ مال گاڑیوں میں ہم نے شراکت داروں کو شامل کیا، کنٹینر، کوئلہ یا فاسفیٹ کی آج مال گاڑیوں کے ذریعے سپلائی کی جا رہی ہے۔
پاکستان کا ایک اور بڑا اعزاز؛ اقتصادی تعاون تنظیم کی باضابطہ چیئرمین شپ سنبھال لی
حنیف عباسی نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ریلوے ویگنز اورکوچز 5 ممالک کو ایکسپورٹ کرنے جا رہی ہے، ہم چلی، ارجنٹینا، سری لنکا، بنگلا دیش اور نیپال کو ریلوے کی کوچز اور ویگن ایکسپورٹ کرنے جا رہے ہیں، اس ہفتے ان 5 ممالک کے سفیروں کو وزارت میں پریزنٹیشن دی جائے گی۔
وزیر ریلوے نے مزید کہا کہ ہم اپنی کوالٹی کے حوالے سے سفیروں کو آگاہ کریں گے اور باقی دنیا سے کم قیمت پر کوچز اور ویگنز ان ممالک کو فراہم کریں گے۔
ٹرین لیٹ۔۔طالبہ امتحان سے محروم۔۔ریلوے کو 27 لاکھ جرمانہ
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پاکستان ریلوے حنیف عباسی ممالک کو
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔