گانوں پر پابندی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع، پنجاب حکومت کے فیصلے کو چیلنج کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
حکومتِ پنجاب کی جانب سے گانوں پر عائد پابندی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں باقاعدہ درخواست دائر کر دی گئی ہے، جس میں ضلعی انتظامیہ کے اقدام کو غیر قانونی اور آئینی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بسنت سے قبل لاہور کے فصیل بند شہر میں 346 غیر محفوظ عمارتوں کی نشاندہی
لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست پی ٹی آئی رہنما شیخ امتیاز کی جانب سے ایڈووکیٹ اظہر صدیق کے توسط سے جمع کرائی گئی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ معروف گانے ’ناک دا کوکا‘ پر پابندی غیر قانونی ہے اور اس گانے میں کسی قسم کی فحاشی یا قابلِ اعتراض مواد موجود نہیں۔
درخواست گزار کے مطابق مذکورہ گانے پر پابندی کی اصل وجہ یہ ہے کہ اسے بانی پی ٹی آئی سے منسوب کیا جاتا ہے، جو سیاسی بنیادوں پر امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈی سی لاہور نے بسنت کے تناظر میں پتنگوں پر کسی بھی سیاسی لیڈر کی تصویر لگانے پر پابندی عائد کی، جو اختیارات سے تجاوز کے زمرے میں آتا ہے۔
درخواست میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ بسنت کے نام پر سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جو بنیادی انسانی اور سیاسی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ڈی سی لاہور کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور: بسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کے لیے دفعہ 144 نافذ، پتنگوں پر مذہبی و سیاسی تحریریں لکھنے پر پابندی
شیخ امتیاز نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر عوام اپنے ذاتی پیسوں سے پتنگ پر کسی سیاسی لیڈر کی تصویر نہیں لگا سکتے تو پھر سیاسی لیڈر بھی عوام کے پیسوں سے اپنی تصاویر آویزاں نہیں کر سکتے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پتنگ پر قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر پر پابندی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
درخواست پر سماعت متوقع ہے، جس کے بعد عدالت کی جانب سے اس معاملے پر مزید ہدایات جاری کی جائیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بسنت پنجاب حکومت لاہور نک دا کوکا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پنجاب حکومت لاہور نک دا کوکا
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔