ڈھاکا اور کراچی کے درمیان براہِ راست پروازیں 14 سال بعد بحال
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا اور پاکستان کے روسنیوں کے شہر کراچی کے درمیان 14 سال کے طویل وقفے کے بعد براہِ راست نان اسٹاپ پروازیں دوبارہ شروع کی جا رہی ہیں۔ بنگلہ دیش کی قومی ایئرلائن بیمان بنگلہ دیش ایئرلائنز جمعرات 29 جنوری سے اس روٹ پر پروازوں کا آغاز کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: 13 سال بعد ڈھاکا سے کراچی کے درمیان پروازیں بحال کرنے کا فیصلہ
ابتدائی مرحلے میں ہفتے میں 2 پروازیں چلائی جائیں گی، جو جمعرات اور ہفتہ کے روز آپریٹ ہوں گی۔ براہِ راست فضائی رابطے کی بحالی سے مسافروں کے سفر کا دورانیہ اور اخراجات نمایاں طور پر کم ہونے کی توقع ہے، جبکہ ٹرانزٹ کے ساتھ سفر کرنے کے مقابلے میں کرایوں میں 30 ہزار ٹکا تک کمی متوقع ہے۔
اس سے قبل مسافروں کو مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک کے ذریعے سفر کرنا پڑتا تھا، جس کے باعث نہ صرف سفر طویل ہو جاتا تھا بلکہ اخراجات میں بھی اضافہ ہو جاتا تھا۔
ڈھاکا اور کراچی کے درمیان 1 ہزار 471 میل طویل فاصلہ 162 نشستوں والے بوئنگ 737 طیارے کے ذریعے طے کیا جائے گا، جبکہ پرواز کا دورانیہ تقریباً 3 گھنٹے ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: بِمان بنگلہ دیش ایئرلائنز کی پاکستان کے لیے پروازوں کا آغاز 29 جنوری سے ہوگا، نشستیں چند گھنٹوں میں بک
ایئرلائن انتظامیہ کے مطابق پہلی پرواز کے تمام ٹکٹس فروخت ہو چکے ہیں، جبکہ دوسری پرواز کی 80 فیصد سے زائد نشستیں بھی پہلے ہی بک ہو چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ براہِ راست پروازوں سے دونوں ممالک کے مسافروں کو تیز، آرام دہ اور بغیر ٹرانزٹ جھنجھٹ کے سفر کی سہولت میسر آئے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بنگلہ دیش پاکستان پروازیں ڈھاکا فضائی رابطہ کراچی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش پاکستان پروازیں ڈھاکا کراچی کراچی کے درمیان بنگلہ دیش
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔