امریکا میں 27 جنوری 2026 کو ناسا (NASA) کے ایک WB‑57 تحقیقاتی طیارے کو ہسٹن، ٹیکساس کے قریب الینگٹن ایئرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ کرنا پڑی جب اس کے لینڈنگ گیئر نے کام نہیں کیا، جس کی وجہ سے طیارہ بیلی لینڈنگ یعنی پیٹ کے بل رن وے پر پھسلتا ہوا اتر گیا۔

ویڈیو فوٹیج میں دیکھا گیا کہ طیارے کے نیچے سے شعلے اور دھواں اٹھ رہا تھا جبکہ اس کے پروں میں تھوڑا سا جھٹکا محسوس ہوا۔

NASA plane lands without landing gear at Houston-area airport after mechanical issue pic.

twitter.com/c7bipTwbpZ

— Catch Up (@CatchUpFeed) January 28, 2026

ناسا نے ایکس پوسٹ پر اعلان کیا کہ طیارے کے ساتھ ایک میکینیکل مسئلہ پیش آیا جس کی وجہ سے لینڈنگ گیئر کھل نہ سکا، تاہم عملہ بالکل محفوظ ہے اور کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔ وجہوہات کی جانچ کے لیے مفصل تحقیق کی جائے گی۔

ویڈیو میں دیکھا گیا کہ بیلی لینڈنگ کے بعد فائر ٹرکس، ایمرجنسی رسپانڈرز اور فرسٹ ریسپانڈر عملہ موقع پر موجود تھے، اور بعد ازاں پائلٹ محفوظ طریقے سے طیارے سے باہر آگیا۔

یہ WB‑57 تحقیقاتی طیارہ ناسا کے High Altitude Research Program کا حصہ ہے اور 1970 کی دہائی سے مختلف سائنسی مشنز میں استعمال ہوتا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

NASA WB‑57 بیلی لینڈنگ طیارہ ناسا

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بیلی لینڈنگ طیارہ بیلی لینڈنگ

پڑھیں:

اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔

این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔

دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔

جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔

فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

متعلقہ مضامین

  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت