عمر ایوب اور شبلی فراز نے پارٹی عہدوں سے استعفے دے دیے، نجی نیوز چینل کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نجی نیوز چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی سے سابق اپوزیشن لیڈر عمرایوب اور شبلی فراز مستعفی ہو گئے۔
دونوں رہنماؤں نے استعفیٰ سے متعلق سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو آگاہ کردیا۔قبل ازیں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما عمر ایوب خان نے پارٹی کی پولیٹیکل کمیٹی میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
پی ٹی آئی کے سینئر رہنما عمر ایوب نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ قانونی اور سیاسی مصروفیات کے باعث پولیٹیکل کمیٹی میں مؤثر کردار ادا کرنا ان کے لیے ممکن نہیں۔
2ماہ کے دوران کوئٹہ میں جرائم کی شرح میں 70 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے ، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
انہوں نے واضح کیا کہ پولیٹیکل کمیٹی کی رکنیت صرف موجودہ پارٹی عہدیداران تک محدود ہونی چاہیے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو پولیٹیکل کمیٹی میں شامل کیا جانا چاہیے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پولیٹیکل کمیٹی
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔