2 سالہ بچے نے اسنوکر کے مشکل شاٹس کھیل کر ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
برطانیہ میں 2 سالہ جوڈی اوئنز نے اسنوکر کے مشکل شاٹس کھیل کر سب کو حیران کر دیا اور گنیز ورلڈ ریکارڈز میں اپنا نام درج کروا لیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسنوکر کو عموماً بالغ افراد کے لیے بھی ایک مشکل اور تکنیکی کھیل سمجھا جاتا ہے لیکن جوڈی نے کم عمری میں ہی ایسے شاٹس کھیل کر دو الگ الگ گنیز ورلڈ ریکارڈز اپنے نام کر لیے۔
گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق 12 اکتوبر 2025 کو جب جوڈی اوئنز کی عمر محض 2 سال اور 302 دن تھی، اس نے کامیابی کے ساتھ پول بینک شاٹ مکمل کیا۔ اس سے قبل 2 سال اور 261 دن کی عمر میں جوڈی نے اسنوکر کا مشکل ڈبل پوٹ شاٹ کھیل کر سب کو حیران کر دیا تھا۔
مزید پڑھیںقومی اسنوکر چیمپین شپ کی سیمی فائنل لائن اپ مکمل
جونیئر انڈر 17 قومی اسنوکر چیمپین شپ کا فاتح کون؟ فیصلہ ہوگیا
ان شاندار کارناموں کے بعد جوڈی اوئنز کو اسنوکر کے مشکل شاٹس مکمل کرنے والا کم عمر ترین کھلاڑی قرار دیا گیا اور ان کا نام گنیز ورلڈ ریکارڈز میں شامل کر لیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گنیز ورلڈ ریکارڈز کھیل کر
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔