Express News:
2026-07-24@07:45:50 GMT

قائم مقام چیئرمین ایچ ای سی کی دوسری سہ ماہی مدت بھی ختم

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

ملک میں سرکاری و نجی جامعات کو تعلیمی پالیسی دینے اور انھیں ریگولیٹ کرنے والے ادارے اعلی تعلیمی کمیشن آف پاکستان خود ایڈہاک ازم پر آگیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بحیثیت قائم مقام چیئرمین وفاقی سیکریٹری تعلیم کی دوسری مدت بھی پوری ہوگئی ہے لیکن وفاقی حکومت چیئرمین ایچ ای سی کی تقرری کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی اور اعلی تعلیم کے معاملے پر حکومتی سنجیدگی پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

یہ ادارہ گذشتہ 6 ماہ سے اپنے آئینی سربراہ مستقل چیئرمین سے محروم ہے اور وفاقی سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب کے پاس ادارے کا عارضی چارج ہے اب اس عارضی چارج کی مدت بھی  بدھ کو ختم ہوگئی ہے۔

خیال رہے کہ بحیثیت قائم مقام چیئرمین ایچ ای سی ندیم محبوب کی یہ 3 ماہ کی دوسری مدت تھی ایچ ای سی کے ایکٹ کے مطابق مستقل چیئرمین کے مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد کسی بھی رکن کمیشن کو تین ماہ کے لیے عارضی چارج دیا جاسکتا ہے جبکہ سیکریٹری تعلیم کو مسلسل دو مدتوں کے لیے عارضی چارج دیا جاچکا ہے۔

سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد کی مدت ملازمت 29 جولائی 2025 کو پوری ہوگئی تھی ادھر وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی زیر صدارت قائم تلاش کمیٹی search committee بھی اپنا کام مکمل کرکے تین موزوں امیدواروں کے ناموں کا پینل سمری کے ذریعے وزیر اعظم کو بھجواچکی ہے۔

کمیٹی کی جانب سے بھیجے گئے ناموں میں این ای ڈی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر سروش لودھی،  پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ اور قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ڈاکٹر نیاز احمد کے نام شامل تھے تلاش کمیٹی خود وزیر اعظم پاکستان نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے قائم کی تھی۔

ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزارت تعلیم کی جانب سے سیکریٹری تعلیم یا کسی اور کمیشن رکن کو چیئرمین کے عہدے کا مزید چارج دینے کی سمری تاحال وزیر اعظم ہاؤس کو بھجوائی نہیں گئی ہے کیونکہ وزیر تعلیم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ایسی کوئی سمری بھجوائی جائے تو یہ خود وزارت کا تلاش کمیٹی پر عدم اعتماد ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت تعلیم کا ماننا ہے کہ تلاش کمیٹی تین موزوں امیدواروں کے ناموں کی سمری انٹرویوز کے بعد پہلے ہی وزیر اعظم کو بھجواچکی ہے اب یہ وزیر اعظم پر منحصر ہے کہ وہ چیئرمین کی تعیناتی کے حوالے سے کیا فیصلہ کرتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اب وفاقی حکومت کے پاس چیئرمین ایچ ای سی کی تعیناتی کے لیے وقت ختم ہوچکا ہے اور فوری طور پر چیئرمین کی تعیناتی نا ہونے سے ادارے میں ایک نیا بحران جنم لے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: چیئرمین ایچ ای سی عارضی چارج تلاش کمیٹی

پڑھیں:

شہدا ء کا مقام اور فضیلت

جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔

ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔

1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔

اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔

احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا