Jasarat News:
2026-07-24@11:14:01 GMT

حافظ سلمان بٹ؛ جرأتِ حق کا استعارہ

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260129-03-4
کچھ لوگ مر کر بھی خاموش نہیں ہوتے۔ ان کی عدم موجودگی خود ایک سوال بن جاتی ہے، ایسا سوال جو ہر سوچتے ذہن اور ہر زندہ ضمیر سے ٹکراتا ہے۔ کچھ نام وقت کی گرد میں دب نہیں جاتے، بلکہ وقت خود ان کے ذکر سے پہچانا جاتا ہے۔ حافظ سلمان بٹ بھی انہی چند ناموں میں سے ایک تھے۔ آج ان کا یومِ وفات ہے، مگر یہ محض ایک فرد کی برسی نہیں؛ یہ اس عہد کے اخلاقی اور فکری بحران کے تناظر میں ایک روشن چراغ کی یاد ہے، جو ہمیں ہماری اجتماعی سمت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ وہ دور ہے جب سچ بولنا جرم بنتا جا رہا ہے، حق گوئی کو بے وقاری کہا جاتا ہے، اور خاموش رہنے کو حکمت و دانائی کا نام دے دیا گیا ہے۔ ایسے ماحول میں حافظ سلمان بٹ کی زندگی اس حقیقت کا عملی ثبوت ہے کہ حق اگر بے خوف نہ ہو تو وہ مصلحت میں بدل جاتا ہے، اور دین اگر مظلوم کے ساتھ کھڑا نہ ہو تو محض رسم و رواج کا مجموعہ رہ جاتا ہے، جس کا معاشرتی عدل سے کوئی حقیقی تعلق باقی نہیں رہتا۔ ان کی زندگی ایک پیغام ہے کہ ہر فرد کے لیے اصول پرستی اور اخلاقی جرأت ایک لازمی فریضہ ہے، اور سماج کی بقا صرف انہی اقدار کی روشنی میں ممکن ہے۔

حافظ سلمان بٹ اْن نادر شخصیات میں سے تھے جن کی عظمت کا معیار نہ تعداد ہے، نہ عہدہ اور نہ اقتدار کے قریب ہونے کے مواقع۔ ان کی شناخت ان کے کردار، جرأتِ گفتار اور فکری استقامت سے بنی۔ وہ اس زمانے میں بولے جب خاموشی کو سنہری اصول بنا دیا گیا تھا۔ انہوں نے عملاً ثابت کیا کہ سچائی کا کوئی متبادل نہیں، چاہے اس کی قیمت تنہائی، مخالفت، کردار کشی یا مشکلات کی صورت میں ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔ ان کا فکری سفر اسلامی جمعیت طلبہ سے جماعت اسلامی تک پہنچا، مگر وہ کبھی محض ایک تنظیمی کارکن یا پارٹی رہنما کی حد تک محدود نہ رہے۔ وہ تنظیم سے بلند ہو کر ضمیر کی آواز بن گئے۔ ان کے نزدیک سیاست اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کی دوڑ نہیں تھی، بلکہ معاشرے کی اخلاقی اور روحانی اصلاح کا ذریعہ تھی۔ وہ سیاست کو مفاد نہیں بلکہ امانت سمجھتے تھے۔ ایسی امانت جس کا تقاضا سچ بولنا اور کمزور کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔

آج کے سیاسی منظرنامے میں، جہاں الفاظ ناپ تول کر بولے جاتے ہیں اور سچ کو وقتی فائدے کے مطابق تراشا جاتا ہے، حافظ سلمان بٹ کی گفتگو ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند تھی۔ ان کے کلام میں نہ بناوٹ تھی، نہ خوف، نہ وقتی مفاد کی جھلک۔ وہ جانتے تھے کہ سچ بولنے کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، مگر وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ سچ کو دبانے کی قیمت کہیں زیادہ بھاری ہوتی ہے۔ قوم کے ضمیر کی خاموش موت۔ حافظ ِ قرآن ہونے کے باوجود انہوں نے دین کو کبھی چند عبادات، فقہی موشگافیوں یا شناختی نعروں تک محدود نہیں کیا۔ ان کے نزدیک اسلام ایک زندہ اخلاقی نظام تھا جو انصاف، امانت، سچائی اور بے خوفی کا مطالبہ کرتا ہے۔ وہ مذہب کو طاقتور کے سامنے سر جھکانے یا ظلم پر خاموش رہنے کا جواز نہیں سمجھتے تھے۔ اسی لیے ان کی تنقید صرف حکمرانوں تک محدود نہ رہی، بلکہ مذہبی حلقوں کے اندر موجود جمود، منافقت اور مصلحت پسندی بھی ان کے سوالات کی زد میں رہی۔ انہوں نے ہمیں یہ سبق دیا کہ صرف عبادت اور رسم و رواج کافی نہیں، بلکہ ہر عمل میں انصاف، سچائی اور اخلاق کا تقاضا پورا ہونا چاہیے۔ ان کا واضح اور غیر مبہم مؤقف تھا کہ اگر دین مظلوم کے ساتھ کھڑا نہیں، تو وہ عملاً ظالم کے حق میں کھڑا ہے۔ یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ان کی پوری زندگی کا فکری خلاصہ تھا۔ ان کی بے باکی بدتمیزی نہیں تھی، اور نہ ہی ان کی شائستگی کمزوری۔ وہ اختلاف کرتے تھے مگر تہذیب کے دائرے میں، تنقید کرتے تھے مگر کردار کشی کے بغیر۔ یہی توازن انہیں ایک ہی وقت میں محبوب بھی بناتا تھا اور متنازع بھی۔

نوجوان نسل سے ان کا تعلق محض خطابت یا جلسوں تک محدود نہ تھا۔ وہ نوجوانوں کے سوالات سنتے، ان کی الجھنوں کو سنجیدگی سے لیتے اور انہیں سوچنے، سمجھنے اور سوال اٹھانے کی دعوت دیتے تھے۔ وہ نوجوانوں کو نہ مایوسی کی طرف دھکیلتے تھے اور نہ اندھی جذباتیت کی طرف؛ بلکہ اصول، شعور اور انسان دوستی کا ایک باوقار راستہ دکھاتے تھے۔ آج کا نوجوان جس فکری انتشار، بے یقینی اور شناختی بحران کا شکار ہے، اس میں حافظ سلمان بٹ کی فکر ایک مضبوط سہارا فراہم کرتی ہے۔ آج ان کے یومِ وفات پر اصل سوال یہ نہیں کہ وہ ہم میں موجود نہیں رہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ان کے اٹھائے ہوئے سوالات کو سنبھالا؟ کیا ہم نے بھی خاموشی کو حکمت اور مصلحت کو دانائی کا نام دے کر اپنے ضمیر کو سلا دیا ہے؟ حافظ سلمان بٹ کی یاد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سیاست اگر کردار سے خالی ہو تو محض طاقت کا کھیل رہ جاتی ہے، اور دین اگر انصاف کے لیے آواز نہ بنے تو محض ایک رسمی ڈھانچہ بن جاتا ہے۔ یہ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم حق گوئی، شجاعت اور اخلاقی استقامت کو اپنے ہر عمل میں زندہ رکھیں۔ حافظ سلمان بٹ جیسے لوگ ایک ایسا خلا چھوڑ جاتے ہیں جو پْر نہیں ہوتا۔ یہ خلا فکری جرأت، اخلاقی صداقت اور بے خوف اظہار کا ہوتا ہے۔ وہ ایک آئینہ تھے، اور آئینے اکثر اْنہیں ناگوار گزرتے ہیں جو اپنی اصل صورت دیکھنے سے گھبراتے ہیں۔ وہ رخصت ہو گئے، مگر ان کی خاموشی آج بھی سوال بن کر گونجتی ہے۔ حافظ سلمان بٹ؛ جرأتِ حق کا استعارہ، ایک ایسی روشن روایت جو اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتی رہے گی۔

میر بابر مشتاق سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حافظ سلمان بٹ کی تک محدود نہ جاتا ہے

پڑھیں:

گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟

گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔

کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا

اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔

گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔

یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں

گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔

پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی

ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گوگل گوگل پاسپورڈ

متعلقہ مضامین

  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت