Jasarat News:
2026-06-03@00:14:13 GMT

حافظ سلمان بٹ؛ جرأتِ حق کا استعارہ

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260129-03-4
کچھ لوگ مر کر بھی خاموش نہیں ہوتے۔ ان کی عدم موجودگی خود ایک سوال بن جاتی ہے، ایسا سوال جو ہر سوچتے ذہن اور ہر زندہ ضمیر سے ٹکراتا ہے۔ کچھ نام وقت کی گرد میں دب نہیں جاتے، بلکہ وقت خود ان کے ذکر سے پہچانا جاتا ہے۔ حافظ سلمان بٹ بھی انہی چند ناموں میں سے ایک تھے۔ آج ان کا یومِ وفات ہے، مگر یہ محض ایک فرد کی برسی نہیں؛ یہ اس عہد کے اخلاقی اور فکری بحران کے تناظر میں ایک روشن چراغ کی یاد ہے، جو ہمیں ہماری اجتماعی سمت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ وہ دور ہے جب سچ بولنا جرم بنتا جا رہا ہے، حق گوئی کو بے وقاری کہا جاتا ہے، اور خاموش رہنے کو حکمت و دانائی کا نام دے دیا گیا ہے۔ ایسے ماحول میں حافظ سلمان بٹ کی زندگی اس حقیقت کا عملی ثبوت ہے کہ حق اگر بے خوف نہ ہو تو وہ مصلحت میں بدل جاتا ہے، اور دین اگر مظلوم کے ساتھ کھڑا نہ ہو تو محض رسم و رواج کا مجموعہ رہ جاتا ہے، جس کا معاشرتی عدل سے کوئی حقیقی تعلق باقی نہیں رہتا۔ ان کی زندگی ایک پیغام ہے کہ ہر فرد کے لیے اصول پرستی اور اخلاقی جرأت ایک لازمی فریضہ ہے، اور سماج کی بقا صرف انہی اقدار کی روشنی میں ممکن ہے۔

حافظ سلمان بٹ اْن نادر شخصیات میں سے تھے جن کی عظمت کا معیار نہ تعداد ہے، نہ عہدہ اور نہ اقتدار کے قریب ہونے کے مواقع۔ ان کی شناخت ان کے کردار، جرأتِ گفتار اور فکری استقامت سے بنی۔ وہ اس زمانے میں بولے جب خاموشی کو سنہری اصول بنا دیا گیا تھا۔ انہوں نے عملاً ثابت کیا کہ سچائی کا کوئی متبادل نہیں، چاہے اس کی قیمت تنہائی، مخالفت، کردار کشی یا مشکلات کی صورت میں ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔ ان کا فکری سفر اسلامی جمعیت طلبہ سے جماعت اسلامی تک پہنچا، مگر وہ کبھی محض ایک تنظیمی کارکن یا پارٹی رہنما کی حد تک محدود نہ رہے۔ وہ تنظیم سے بلند ہو کر ضمیر کی آواز بن گئے۔ ان کے نزدیک سیاست اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کی دوڑ نہیں تھی، بلکہ معاشرے کی اخلاقی اور روحانی اصلاح کا ذریعہ تھی۔ وہ سیاست کو مفاد نہیں بلکہ امانت سمجھتے تھے۔ ایسی امانت جس کا تقاضا سچ بولنا اور کمزور کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔

آج کے سیاسی منظرنامے میں، جہاں الفاظ ناپ تول کر بولے جاتے ہیں اور سچ کو وقتی فائدے کے مطابق تراشا جاتا ہے، حافظ سلمان بٹ کی گفتگو ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند تھی۔ ان کے کلام میں نہ بناوٹ تھی، نہ خوف، نہ وقتی مفاد کی جھلک۔ وہ جانتے تھے کہ سچ بولنے کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، مگر وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ سچ کو دبانے کی قیمت کہیں زیادہ بھاری ہوتی ہے۔ قوم کے ضمیر کی خاموش موت۔ حافظ ِ قرآن ہونے کے باوجود انہوں نے دین کو کبھی چند عبادات، فقہی موشگافیوں یا شناختی نعروں تک محدود نہیں کیا۔ ان کے نزدیک اسلام ایک زندہ اخلاقی نظام تھا جو انصاف، امانت، سچائی اور بے خوفی کا مطالبہ کرتا ہے۔ وہ مذہب کو طاقتور کے سامنے سر جھکانے یا ظلم پر خاموش رہنے کا جواز نہیں سمجھتے تھے۔ اسی لیے ان کی تنقید صرف حکمرانوں تک محدود نہ رہی، بلکہ مذہبی حلقوں کے اندر موجود جمود، منافقت اور مصلحت پسندی بھی ان کے سوالات کی زد میں رہی۔ انہوں نے ہمیں یہ سبق دیا کہ صرف عبادت اور رسم و رواج کافی نہیں، بلکہ ہر عمل میں انصاف، سچائی اور اخلاق کا تقاضا پورا ہونا چاہیے۔ ان کا واضح اور غیر مبہم مؤقف تھا کہ اگر دین مظلوم کے ساتھ کھڑا نہیں، تو وہ عملاً ظالم کے حق میں کھڑا ہے۔ یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ان کی پوری زندگی کا فکری خلاصہ تھا۔ ان کی بے باکی بدتمیزی نہیں تھی، اور نہ ہی ان کی شائستگی کمزوری۔ وہ اختلاف کرتے تھے مگر تہذیب کے دائرے میں، تنقید کرتے تھے مگر کردار کشی کے بغیر۔ یہی توازن انہیں ایک ہی وقت میں محبوب بھی بناتا تھا اور متنازع بھی۔

نوجوان نسل سے ان کا تعلق محض خطابت یا جلسوں تک محدود نہ تھا۔ وہ نوجوانوں کے سوالات سنتے، ان کی الجھنوں کو سنجیدگی سے لیتے اور انہیں سوچنے، سمجھنے اور سوال اٹھانے کی دعوت دیتے تھے۔ وہ نوجوانوں کو نہ مایوسی کی طرف دھکیلتے تھے اور نہ اندھی جذباتیت کی طرف؛ بلکہ اصول، شعور اور انسان دوستی کا ایک باوقار راستہ دکھاتے تھے۔ آج کا نوجوان جس فکری انتشار، بے یقینی اور شناختی بحران کا شکار ہے، اس میں حافظ سلمان بٹ کی فکر ایک مضبوط سہارا فراہم کرتی ہے۔ آج ان کے یومِ وفات پر اصل سوال یہ نہیں کہ وہ ہم میں موجود نہیں رہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ان کے اٹھائے ہوئے سوالات کو سنبھالا؟ کیا ہم نے بھی خاموشی کو حکمت اور مصلحت کو دانائی کا نام دے کر اپنے ضمیر کو سلا دیا ہے؟ حافظ سلمان بٹ کی یاد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سیاست اگر کردار سے خالی ہو تو محض طاقت کا کھیل رہ جاتی ہے، اور دین اگر انصاف کے لیے آواز نہ بنے تو محض ایک رسمی ڈھانچہ بن جاتا ہے۔ یہ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم حق گوئی، شجاعت اور اخلاقی استقامت کو اپنے ہر عمل میں زندہ رکھیں۔ حافظ سلمان بٹ جیسے لوگ ایک ایسا خلا چھوڑ جاتے ہیں جو پْر نہیں ہوتا۔ یہ خلا فکری جرأت، اخلاقی صداقت اور بے خوف اظہار کا ہوتا ہے۔ وہ ایک آئینہ تھے، اور آئینے اکثر اْنہیں ناگوار گزرتے ہیں جو اپنی اصل صورت دیکھنے سے گھبراتے ہیں۔ وہ رخصت ہو گئے، مگر ان کی خاموشی آج بھی سوال بن کر گونجتی ہے۔ حافظ سلمان بٹ؛ جرأتِ حق کا استعارہ، ایک ایسی روشن روایت جو اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتی رہے گی۔

میر بابر مشتاق سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حافظ سلمان بٹ کی تک محدود نہ جاتا ہے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔

نجی ٹی وی چینل  جیو نیوز کے مطابق ذرائع کاکہنا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہوسکا، وفاقی بجٹ 8یا 12جون کو پیش کئے جانے کا امکان ہے۔

قومی اقتصادی کونسل کا 3جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی کردیا گیا، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیاگیا۔

یادرہے کہ اس سے قبل خیال کیا جارہا تھا کہ وفاقی بجٹ5جون کو پیش کیا جائے گا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے