اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) پاک چین معدنی تعاون فورم بدھ کو جناح کنونشن سینٹرمیں منعقد ہوا جس میں وفاقی وزرا، سفارتی نمائندگان، چینی اداروں اور صنعت کے سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ فورم کے انعقاد کا مقصد پاکستان کے معدنی شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانا اور پائیدار ترقی و سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا تھا۔ اس فورم کا اہتمام چائنا چیمبر آف کامرس اِن پاکستان نے کیا جو پالیسی مکالمے، سرمایہ کاری کی سہولت کاری، ٹیکنالوجی تعاون اور کاروباری روابط (بزنس میچ میکنگ)کے لئے ایک اعلیٰ سطحی پلیٹ فارم ثابت ہوا۔ فورم میں معدنی ویلیو چین کے تمام پہلوو ں بشمول تلاش (ایکسپلوریشن)، کان کنی، پروسیسنگ، لاجسٹکس، فنانسنگ اور استعداد سازی پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر 71 چینی کمپنیاں، 133 پاکستانی کمپنیاں اور 850 سے زائد شرکاء نے شرکت کی۔ افتتاحی تقریب میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال، چین کے سفیر جیانگ ژی ڈونگ، وفاقی وزیر برائے توانائی (پٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک اور وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ شامل تھے۔ اس کے علاوہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کے سینئر افسران، معروف چینی اداروں کے ایگزیکٹوز اور متعلقہ اداروں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔ اپنے خطاب میں پروفیسر احسن اقبال نے پاک–چین سٹرٹیجک شراکت داری کی پائیدار مضبوطی کو اجاگر کیا بالخصوص اس تناظر میں کہ دونوں ممالک سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت تعاون نے پاکستان کی معیشت میں بجلی کی پیداوار، بنیادی ڈھانچے اور صنعتی رابطہ کاری سمیت نمایاں نتائج دیئے ہیں۔ انہوں نے چینی کمپنیوں کو پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی۔ چینی سفیر جیانگ ژی ڈونگ نے پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری، استعداد سازی اور ٹیکنالوجی کے فروغ میں چین کی مضبوط دلچسپی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ترقیاتی تعاون کے تحت ”چھوٹے مگر خوبصورت منصوبوں“ بشمول انفراسٹرکچر، تعلیم اور صحت پر چین کی توجہ بھی اجاگر کی۔ چائنہ چیمبر آف کامرس ان پاکستان کے چیئرمین وانگ ہوئی ہوا نے کہا کہ یہ فورم پاک–چین اقتصادی تعاون کے ارتقائی مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے جس میں معدنیات ایک نئے ستون کے طور پر ابھر رہی ہیں۔ وفاقی وزیر توانائی علی پرویز ملک نے پاکستان کی پالیسی سمت کو ذمہ دارانہ اور ویلیو ایڈڈ معدنی ترقی سے جوڑا اور عالمی معیار سے ہم آہنگ پائیدار کان کنی کے لئے ضابطہ جاتی فریم ورک مضبوط بنانے کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ ایم سی سی کے چیئرمین وانگ جی چنگ نے پاکستان میں چینی کان کنی آپریشنز سے متعلق تجربات بیان کرتے ہوئے ٹیکنالوجی ٹرانسفر، افرادی قوت کی تربیت اور بہترین طریقہ کار کی پابندی کو اجاگر کیا۔ وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے پاکستان–چین سرمایہ کاری تعاون میں تیزی بالخصوص نجی شعبے کی سطح پر کو سراہا۔ فورم کی ایک اہم پیشرفت ”پاک–چین ای-مائننگ پلیٹ فارم“ کا اجراءتھا جو معلومات کے تبادلے، منصوبہ جاتی روابط اور پاکستانی حکام و چینی اداروں کے درمیان تعاون کو بہتر بنانے کے لئے ایک ڈیجیٹل اقدام ہے۔ اس پلیٹ فارم سے شفافیت، کارکردگی اور تعاون میں اضافہ متوقع ہے۔ فورم کے دوران متعدد مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط بھی کئے گئے جن میں واہ نوبل (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور ایم سی سی ٹی انٹرنیشنل، نیز جے ڈبلیو کارپوریشن اور ایم سی سی ٹی انٹرنیشنل کے درمیان ڈیجیٹل سرحد پار صنعتی تجارت کے مواقع کے فریم ورک سے متعلق ایم او یوز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ایم ڈی سی )، پاورچائنا انٹرنیشنل اور پاک–چین انویسٹمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے مابین پاکستان کے معدنی شعبے میں تعاون کے لئے ایک ایم او یو پر دستخط ہوئے جس کا مقصد سرمایہ کاری سہولت کاری، تکنیکی تعاون اور مشترکہ ترقیاتی اقدامات ہیں۔ فورم کے دوسرے سیشن میں پالیسی فریم ورکس اور شعبہ جاتی بریفنگز پیش کی گئیں۔ اختتام پر بزنس میچ میکنگ سیشنز اور سٹال نمائش منعقد ہوئی جس سے پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان براہِ راست روابط، منصوبوں کی نمائش اور ممکنہ شراکت داریوں پر گفتگو ممکن ہوئی۔ 

پاک چین فورم

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری وفاقی وزیر نے پاکستان پاکستان کے پاک چین نے پاک ایم او کے لئے

پڑھیں:

راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔

شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔

وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

شزا فاطمہ وفاقی وزیر

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال