مریم نواز کی 7 کروڑ روپے واپسی، لاہور ہائیکورٹ نے نیب سے جواب طلب کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے چوہدری شوگر ملز کیس میں جمع کروائے گئے 7 کروڑ روپے کی واپسی کے معاملے پر نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مریم نواز نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ چوہدری شوگر ملز کیس کو نیب نے بے بنیاد قرار دے کر ختم کر دیا ہے، لہٰذا کیس کے اختتام کے بعد بطور گارنٹی جمع کروائے گئے 7 کروڑ روپے واپس کیے جائیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے 3 رکنی فل بینچ کی سربراہی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کی، جبکہ جسٹس جواد ظفر اور جسٹس عبہر گل خان بھی بینچ میں شامل تھے۔
نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کیس نیب کے ذریعے ختم کر دیا گیا ہے، تاہم چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا متعلقہ ٹرائل کورٹ کی بھی اس کی حتمی منظوری ہو گئی ہے۔ نیب کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق اس کی ضرورت نہیں ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ نیب نے تو کیس ختم کر دیا، لیکن ٹرائل کورٹ کی حتمی منظوری ضروری ہے۔
عدالت نے چوہدری شوگر ملز کیس کے حوالے سے نیب کو 4 فروری تک جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے اور معاملے پر مزید سماعت بعد میں ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔