عاطف اسلم اور راحت فتح علی خان لالچی ہیں، جواد احمد
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
نوّے کی دہائی کے معروف پاکستانی گلوکار اور موجودہ سیاست دان جواد احمد آج کل اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔
موسیقی سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بعد جواد احمد اکثر سیاسی شخصیات، شوبز ستاروں اور اپنے ہم عصروں پر تنقیدی گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس پر انہیں خاصی تنقید کا سامنا بھی رہتا ہے۔
حال ہی میں ایک نیوز شو میں انہوں نے مشہور گلوکاروں عاطف اسلم اور راحت فتح علی خان کو ’لالچی‘ قرار دے دیا۔
جواد احمد کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی سیاسی وابستگی کی وجہ سے موسیقی کو خیرباد کہا اور اب وہ گائیکی سے کوئی آمدن حاصل نہیں کرتے، کیونکہ ان کے نزدیک اس شعبے میں مالی لالچ نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے دور میں فنکار عوام کے لیے ہر جگہ دستیاب ہوتے تھے اور ان کے کیسٹ ریکارڈ توڑ فروخت ہوتے تھے، یہاں تک کہ بھارت میں بھی لوگ ان کی کامیابی پر حیران رہ جاتے تھے۔
مزید پڑھیںماہرہ برقع پہنے گی تو ڈانس کیسے کرے گی؟ جواد احمد متنازع بیان پر تنقید کی زد میں آگئے
جواد احمد کے مطابق وہ دیہات میں بغیر معاوضہ گانے گاتے تھے اور صرف یہی شرط رکھتے تھے کہ گانے سبق آموز ہوں۔
انہوں نے موجودہ گلوکاروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج کل زیادہ تر فنکار صرف شادیوں اور کارپوریٹ تقریبات تک محدود ہو چکے ہیں اور عام مداحوں سے دور ہو گئے ہیں۔
ان کے خیال میں یہ رویہ فن اور فنکار دونوں کے لیے نقصان دہ ہے، کیونکہ جس عوام نے انہیں شہرت دی، وہی ان کی ترجیح میں شامل نہیں رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔