سندھ کے قدیم مقام موہن جو دڑو پر کھدائی کے دوران اہم پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: سندھ کے تاریخی آثار قدیمہ کے مقام موہن جو دڑو میں جاری کھدائی کے دوران ایک اہم دریافت سامنے آئی ہے۔
ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے شہر کے تحفظ کے لیے تعمیر کی گئی ایک حفاظتی دیوار کے آثار دریافت کر لیے ہیں۔ کھدائی کے دوران مرکزی شہر کے گرد کچی اینٹوں سے بنی ایک دیوار ملی ہے، جسے اب باقاعدہ فصیل قرار دیا جا رہا ہے۔
موہن جو دڑو میں یہ کھدائی پاک امریکا مشترکہ آثارِ قدیمہ مشن کے تحت جاری ہے۔ ماضی میں 1950 اور 1951 میں ایک برطانوی ماہر آثارِ قدیمہ نے ان ساختوں کو محض کچی اینٹوں کی بنیاد قرار دیا تھا، تاہم حالیہ کھدائی اور زمینی تہوں کے شواہد سے ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ دراصل شہر کی حفاظتی فصیل تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فصیل ممکنہ طور پر تجارتی سرگرمیوں کو منظم کرنے اور شہر میں آمد و رفت کو کنٹرول کرنے کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔
اس اہم دریافت پر صوبائی وزیر ثقافت ذوالفقار علی شاہ نے ماہرین آثارِ قدیمہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس سے سندھ کے تاریخی ورثے کی عالمی اہمیت مزید اجاگر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اس دریافت سے تحقیقی کام کے ساتھ ساتھ سیاحتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
فائل فوٹوسندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں، طوفان اور بارش ہوئی ہے جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔
خیبرپختونخوا میں مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سندھ کے علاقے تھرپارکر میں بارش، سکھر میں ژالہ باری، لاڑکانہ، حیدرآباد، مٹیاری، ہالہ، نیو سعیدآباد، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کا طوفان آیا ہے۔
اسلام آباد، لاہور، جہلم، سرگودھا، گجرات، رحیم یار خان، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی۔
تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا، پاراچنار اور اس کے ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی۔