Islam Times:
2026-07-24@06:48:42 GMT

ٹرمپ سے عاری مغرب

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

ٹرمپ سے عاری مغرب

اسلام ٹائمز: امریکہ کے دیرینہ اور روایتی اتحادیوں کی جانب سے مشرق کا رخ کر لینا، کسی قیمت اور مشکلات کے بغیر نہیں ہے کیونکہ ان کی کمزوری انہیں وائٹ ہاؤس کے حریفوں کی جانب زیادہ سے زیادہ جھکاو اختیار کرنے سے روک سکتی ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کو "گورنر" کے طور پر مخاطب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا: "کینیڈا کے سربراہ نے اپنے ملک کے دروازے چین سے وسیع تجارت کے لیے کھول کر "بڑی غلطی" کی ہے۔ اس تجارت میں ایک حالیہ معاہدہ بھی شامل ہے جس کے تحت چین سے الیکٹرک گاڑیوں کی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔" اخبار اکانومسٹ کے مطابق اگر برطانیہ ٹرمپ کے دباؤ اور جبر کے لیے اپنی کمزوری کم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے چین سے زیادہ مدد کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ امریکہ پر لندن کا انحصار انتہائی اہم امور میں ہے۔ تحریر: رضا حسینی

ترقی یافتہ مغربی ممالک کے خلاف وائٹ ہاؤس کی ٹیرف جنگ نے یورپی ممالک کو واشنگٹن کے ساتھ تجارت کی جگہ نئی منڈیاں تلاش کرنے پر اکسایا ہے۔ اس سلسلے میں برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر چین کا دورہ کرنے جا رہے ہیں تاکہ ایسے وقت جب واشنگٹن سے تعلقات کشیدہ حالت میں ہیں، بیجنگ سے تعلقات میں سرد مہری کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ دوسری طرف، مہینوں کی شدید اور پیچیدہ بات چیت کے بعد یورپی کمیشن نے کل ہندوستان کے ساتھ ایک آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ یہ معاہدہ امریکی صدر کی ٹیرف جنگ کے بعد عالمی سطح پر پیدا ہونے والے شدید حالات میں گاڑیوں سے لے کر مشروبات تک یورپی یونین کی مصنوعات پر ٹیکسز میں نمایاں کمی کا باعث بنے گا۔ اس معاہدے کا اعلان یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین سمیت یورپی یونین کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے سرکاری دورے کے دوران کیا گیا۔
 
مشرق کی جانب توجہ پر مبنی حکمت عملی
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی، جنہوں نے 14 سے 17 جنوری تک چین کا دورہ کیا تھا، نے کہا ہے کہ کینیڈا ترجیحی بنیادوں پر تقریباً 49 ہزار چینی ساختہ الیکٹرک گاڑیاں درآمد کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ اقدام اوٹاوا کے اس جنوبی پڑوسی کی حکمت عملی کے بالکل برعکس ہے جس نے چین سے درآمد ہونے والی الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مشرق کی جانب جھکاو پر مبنی اسی طرز عمل کی روشنی میں برطانوی وزیراعظم کا دورہ چین آج سے شروع ہو رہا ہے۔ کیئر اسٹارمر چین کے صدر شی جن پنگ اور دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے وزیراعظم لی کی چیانگ سے ملاقات کریں گے۔ ان کے ساتھ برطانوی ٹریڈ سیکرٹری پیٹر کائل اور بڑی کمپنیوں کے درجنوں سی ای او بھی ہوں گے کیونکہ لندن چینی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا ہے۔
 
جذباتی تعلق ختم ہو جانے کے مصائب
امریکہ کے دیرینہ اور روایتی اتحادیوں کی جانب سے مشرق کا رخ کر لینا، کسی قیمت اور مشکلات کے بغیر نہیں ہے کیونکہ ان کی کمزوری انہیں وائٹ ہاؤس کے حریفوں کی جانب زیادہ سے زیادہ جھکاو اختیار کرنے سے روک سکتی ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کو "گورنر" کے طور پر مخاطب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا: "کینیڈا کے سربراہ نے اپنے ملک کے دروازے چین سے وسیع تجارت کے لیے کھول کر "بڑی غلطی" کی ہے۔ اس تجارت میں ایک حالیہ معاہدہ بھی شامل ہے جس کے تحت چین سے الیکٹرک گاڑیوں کی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔" اخبار اکانومسٹ کے مطابق اگر برطانیہ ٹرمپ کے دباؤ اور جبر کے لیے اپنی کمزوری کم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے چین سے زیادہ مدد کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ امریکہ پر لندن کا انحصار انتہائی اہم امور میں ہے۔
 
یہ اخبار مزید لکھتا ہے کہ لندن، نیوکلیئر ڈیٹرنس، جنگی طیاروں اور ڈیجیٹل سروسز بشمول کلاؤڈ کمپیوٹنگ جیسے اہم شعبوں میں امریکہ کا محتاج ہے۔ برطانیہ بھی دیگر مغربی طاقتوں کی طرح چینی ہتھیاروں یا ڈیٹا اسٹوریج کی سہولیات خریدنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور حتی ایسے شعبوں میں بھی احتیاط سے کام لے رہا ہے جو بظاہر کم خطرے کے حامل ہیں۔ نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹے نے پیر کے روز یورپی پارلیمنٹ کے اراکین کو خبردار کیا کہ یورپی حکام اگر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ امریکہ کے بغیر اپنا دفاع کر سکتے ہیں تو یہ ان کا "خواب" ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر یوکرین، یورپ یا اپنے دفاعی صنعتی مراکز سے جنگی سازوسامان خرید سکتا ہے تو یہ بالترتیب "غیر معمولی" یا "عظیم" ہو گا۔ انہوں نے کہا: "ہم یوکرین کو جنگ میں باقی نہیں رکھ سکتے"۔
 
ورلڈ آرڈر کا غیر یقینی مستقبل
اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ وائٹ ہاؤس کے سیکورٹی اور اقتصادی شراکت داروں کے یہ ہتھکنڈے، ٹرمپ کا طرز عمل تبدیل ہونے کا باعث بنیں گے۔ 47 ویں امریکی صدر کا خیال ہے کہ امریکہ کے پاس تمام کارڈز موجود ہیں، کیونکہ تنازعہ کی صورت میں اس کے یورپی اور ایشیائی اتحادیوں کو امریکہ سے زیادہ نقصان ہو گا۔ مثال کے طور پر اگر امریکہ یوکرین کو ہتھیاروں کی فروخت اور انٹیلی جنس تعاون بند کر دیتا ہے تو یوکرین کی شکست اور روس کی مزید فتوحات حاصل کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کا خطرہ ہے۔ یورپ اور ایشیا، فوجی سازوسامان کے لیے پینٹاگون پر انحصار کرتے ہیں کیونکہ واشنگٹن، نیٹو کی فوجی صلاحیت کا 40 حصہ فراہم کرتا ہے اور یہی اہم ترین حصہ ہے۔ اسی طرح امریکہ یورپ کو اہم اقتصادی اور ڈیجیٹل سہولیات اور ٹیکنالوجیز بھی فراہم کرتا ہے۔
 
ٹرمپ کے جنگجوانہ انداز کے پیش نظر، اس کے اتحادیوں کو چاہیے کہ وہ اسے اپنی اسٹریٹجک اہمیت کی یاد دہانی کروائیں۔ جرمنی، جاپان، پولینڈ اور جنوبی کوریا جیسے ممالک خود کو زیادہ تیزی سے مسلح کریں گے اور حتی جوہری ہتھیاروں کا تعاقب بھی کریں گے۔ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا پھیلاؤ وائٹ ہاؤس کے جوہری ہتھیاروں کی قدر کو کم کرے گا اور حریفوں کے خلاف اس کی خارجہ پالیسی کی تاثیر میں رکاوٹ بنے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ چند دہائیوں کے دوران امریکہ کی سیکورٹی چھتری نے یورپ کو سست بنا دیا ہے۔ یورپی حکام سخت دشمن کا مقابلہ کرنے سے زیادہ پرتعیش زندگی کے بارے میں سوچتے ہیں۔ لیکن اب وہ دور ختم ہو چکا ہے اور بحر اوقیانوس کے مشرقی ساحل پر موجود رہنماؤں کو اس دن کی تیاری کرتے ہوئے واشنگٹن کے ساتھ آٹھ دہائیوں کے اتحاد کو کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: وائٹ ہاؤس کے کے وزیراعظم امریکی صدر کینیڈا کے کرتے ہوئے امریکہ کے سے زیادہ کی جانب کے ساتھ چین سے کے لیے کی صدر

پڑھیں:

ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟

اسلام آباد: معروف امریکی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا نے 2 سے 5 سال عمر کے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی ہے، جسے جدید ڈیزائن اور ہلکے وزن کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ ٹیسلا بچوں کی بیلنس بائیک مضبوط مگر ہلکے میگنیشیم فریم پر مشتمل ہے، جبکہ اس میں بچوں کی سہولت کے لیے ایڈجسٹ ہونے والی نشست بھی دی گئی ہے۔ بائیک کے سائیڈ پر ٹیسلا کا نام اور سامنے نمایاں T لوگو بھی موجود ہے۔

یہ بائیک روایتی سائیکل سے مختلف ہے کیونکہ اس میں نہ پیڈل موجود ہیں، نہ موٹر اور نہ ہی بریک۔ بچے اپنے پیروں کی مدد سے اسے چلاتے ہیں، جس سے ان میں توازن برقرار رکھنے اور سائیکل چلانے کی بنیادی مہارت پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔

کمپنی نے اس منفرد بائیک کی قیمت 225 امریکی ڈالر مقرر کی ہے، جو عام بیلنس بائیکس کے مقابلے میں زیادہ ہے، کیونکہ مارکیٹ میں ایسی بیشتر بائیکس تقریباً 100 ڈالر میں دستیاب ہوتی ہیں۔

قیمت نسبتاً زیادہ ہونے کے باوجود یہ بائیک فروخت کے آغاز کے فوراً بعد آؤٹ آف اسٹاک ہو گئی، جس سے صارفین کی غیر معمولی دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔

ٹیسلا کے مطابق نئی کھیپ کے لیے 31 جولائی سے پری آرڈر دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ بائیک 2 سے 5 سال عمر کے بچوں کے لیے موزوں ہے۔ اس کے استعمال کے لیے بچے کی ٹانگ کی کم از کم لمبائی 13.7 انچ (35 سینٹی میٹر) ہونی چاہیے، جبکہ تجویز کردہ زیادہ سے زیادہ وزن 30 کلوگرام اور قابل برداشت زیادہ سے زیادہ وزن 35 کلوگرام رکھا گیا ہے۔

ٹیسلا نے یہ بھی بتایا کہ بائیک کی اسمبلنگ کے لیے درکار تمام ضروری اوزار پیکج میں شامل ہوں گے، جبکہ صارفین کو مکمل ہدایات پر مشتمل استعمال کا کتابچہ بھی فراہم کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق بچوں کی مصنوعات کی مارکیٹ میں ٹیسلا کی یہ نئی پیشکش کمپنی کی برانڈ توسیع کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے وہ گاڑیوں کے علاوہ دیگر صارفین کی مصنوعات میں بھی اپنی موجودگی مضبوط بنا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران