لبلبے کے کینسر کا علاج دریافت کرلیا گیا، سائنسدانوں کا نئی تحقیق میں دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
اسپین میں ہونے والی ایک نئی سائنسی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تین مختلف علاجوں پر مشتمل مشترکہ تھراپی کے ذریعے چوہوں میں لبلبے (پینکریاز) کے کینسر کے ٹیومر ختم کرنے میں کامیابی حاصل کرلی گئی ہے۔
یہ تحقیق اسپین کے نیشنل کینسر ریسرچ سینٹر (CNIO) کے ماہرین نے کی، جس کے نتائج معروف سائنسی جریدے پی این اے ایس میں شائع ہوئے ہیں۔
لبلبے کا کینسر دنیا کے خطرناک ترین کینسروں میں شمار ہوتا ہے اور اس میں مریضوں کی بقا کی شرح انتہائی کم ہے، جس کی ایک بڑی وجہ علاج کے خلاف جلد مزاحمت پیدا ہونا ہے۔
تحقیق کرنے والے ماہرین کے مطابق نئی دریافت مستقبل میں ایسے مشترکہ علاج تیار کرنے کی راہ ہموار کرسکتی ہے جو پینکریاٹک ڈکٹل ایڈینوکارسینوما کے مریضوں کی زندگی بڑھانے میں مددگار ہوں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ سائنس دانوں نے کینسر کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرنے والے کے راس (KRAS) نامی آنکوجین کے مالیکیولر راستے کے تین مختلف حصوں کو بیک وقت نشانہ بنایا، جس سے ٹیومر میں طویل عرصے تک کمی دیکھی گئی۔
اسپین میں ہر سال اس قسم کے کینسر کے دس ہزار سے زائد نئے کیس سامنے آتے ہیں جبکہ پانچ سال تک زندہ رہنے کی شرح دس فیصد سے بھی کم ہے۔
BREAKING????: This is Mariano Barbacid, the scientist who may have discovered the cure for pancreatic cancer.
ماہرین کے مطابق اس کامیابی کا راز اس بات میں ہے کہ کینسر کے خلیوں میں پیدا ہونے والی اس مزاحمت سے بچا گیا جو عام طور پر صرف ایک مقام کو نشانہ بنانے سے سامنے آتی ہے۔
تحقیق کے دوران ایک تجرباتی کے راس روکنے والی دوا، پھیپھڑوں کے کینسر کے لیے پہلے سے منظور شدہ دوا اور ایک پروٹین کو ختم کرنے والی دوا کو ملا کر استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں تین مختلف جانوروں کے ماڈلز میں بغیر کسی بڑے ضمنی اثر کے ٹیومر ختم ہو گئے۔
اگرچہ اس پیش رفت کو کینسر کے خلاف جنگ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، تاہم محققین نے احتیاط کی بھی تاکید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فی الحال انسانوں پر اس ٹرپل تھراپی کے کلینیکل ٹرائلز شروع کرنا ممکن نہیں، کیونکہ مریضوں کے لیے اس امتزاج کو محفوظ اور مؤثر بنانے کا عمل پیچیدہ ہوگا۔ اس کے باوجود ماہرین کو امید ہے کہ یہ تحقیق مستقبل میں ہونے والے کلینیکل ٹرائلز کی سمت متعین کرے گی اور نئے علاجوں کی بنیاد بن سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔