Jasarat News:
2026-06-03@01:16:40 GMT

صلۂ رحمی

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایک متقی اور باشعور مسلم اسلامی تعلیمات کے مطابق صلۂ رحمی کرتا ہے۔ جس ذات باری نے اس تعلق کو قائم کیا ہے اسی نے اہمیت اور قرابت کے مطابق اس کی درجہ بندی بھی کی ہے۔ چنانچہ پہلا درجہ والدین کا قرار دیا۔ قرآن کریم کی متعدد آیات میں والدین کے ساتھ سلوک کرنے کو مستقل طور پر بیان کیا گیا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل میں ارشاد باری ہے:
’’اور تیرے پروردگار نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو مگر صرف اس کی اور ماں باپ کے ساتھ حُسنِ سلوک کرو‘‘ (بنی اسرائیل: 23)۔
’’اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم کیا ہے‘‘ (العنکبوت: 8)۔

سورۂ لقمان میں ارشاد باری ہے:
’’اور یہ حقیقت ہے کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہنچانے کی خود تاکید کی ہے۔ اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اُٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اس کا دودھ چھوٹنے میں لگے۔ (اسی لیے ہم نے اس کو نصیحت کی کہ) میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجا لا، میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے‘‘ (لقمان: 14)۔
اس آیت میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ جہاں تک شکر گزاری اور خدمت کا تعلق ہے تو اس کی ہدایت ماں باپ دونوں کے لیے فرمائی گئی ہے لیکن قربانیاں اور جاں فشانیاں، حمل، ولادت اور رضاعت صرف ماں کی گنوائی گئی ہیں، باپ کی کسی قربانی کا حوالہ نہیں دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ماں کا حق باپ کے مقابلے میں زیادہ ہے (الجامع لاحکام القرآن، ابو عبداللہ محمد بن احمد الانصاری القرطبی)۔
سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبیؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ نے فرمایا: تمھاری ماں۔ اس نے پھر پوچھا: اس کے بعد کون ہے؟ آپ نے جواب دیا: تمھاری ماں۔ اس نے دریافت کیا: پھر کون؟ آپؐ نے فرمایا: تمھارا باپ۔ ایک دوسری روایات میں باپ کے بعد قریبی رشتے دار کا بھی تذکرہ ہے (مسلم)۔

صلۂ رحمی میں کوئی تفریق نہیں
دین اسلام کی یہ تعلیم نہیں کہ مسلمان صرف ان رشتے داروں کے ساتھ صلۂ رحمی کریں جو ان کے ساتھ بھی صلۂ رحمی کریں، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ان رشتے داروں کے ساتھ بھی اچھا برتاؤ اور صلۂ رحمی کرنے کا حکم دیتا ہے جو ان کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں رکھتے ہیں۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا: صلۂ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جو احسان کا بدلہ احسان سے ادا کرے، بلکہ صلۂ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس سے قطع رحمی کی جائے تو وہ صلۂ رحمی کرے (بخاری)۔
اسلام نے غیر مسلم رشتے داروں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنے پر زور دیا ہے، ارشاد باری ہے:
’’اگر وہ تجھ پر دبائو ڈالیں کہ میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھیرائے جسے تو نہیں جانتا تو ان کی بات ہرگز نہ ماننا اور دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتائو کرنا‘‘ (لقمان: 15)۔
اس آیت کی تفسیر میں امام قرطبی نے لکھا ہے کہ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کافر والدین کے ساتھ صلۂ رحمی کی جائے۔ اگر وہ غریب ہوں تو انھیں مال دیا جائے، ان کے ساتھ ملائمت کی بات کی جائے، انھیں حکمت کے ساتھ اسلام کی دعوت دی جائے (الجامع لاحکام القرآن)۔
حدیث میں بھی غیر مسلموں سے صلۂ رحمی کی تلقین ملتی ہے۔ سیدہ اسما بنت ابوبکر الصدیقؐ بیان کرتی ہیں کہ میری ماں عہد نبوی میں میرے پاس آئیں، جب کہ وہ مشرک تھیں۔ میں نے رسولؐ سے پوچھا کہ میری ماں میرے پاس آئی ہیں، اور وہ مجھ سے کچھ امید رکھتی ہیں، تو کیا میں ان کے ساتھ صلۂ رحمی کروں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، تم اپنی ماں کے ساتھ صلۂ رحمی کرو (مسلم)۔

صلۂ رحمی کا مطلب بے جا طرف داری نہیں
شریعت میں صلۂ رحمی پر بہت زور دیا گیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کی بے جا طرف داری کی جائے، رشتے داروں کو ہر صورت میں فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جائے، اگرچہ وہ حق پر نہ ہوں، اور ان کے ساتھ ہمدردی کی جائے اگرچہ وہ ظالم کیوں نہ ہوں۔ دین اسلام اس کی تعلیم نہیں دیتا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں خاص طور پر اس پر تنبیہ کی گئی ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’ایک دوسرے کی نیکی اور تقویٰ میں مدد کرتے رہو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو‘‘ (المائدہ: 2)۔

دوسری جگہ ارشاد باری ہے:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علَم بردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمھارے انصاف اور تمھاری گواہی کی زد خود تمھاری اپنی ذات پر یا تمھارے والدین اور رشتے داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ فریق معاملہ خواہ مال دار ہو یا غریب، اللہ تم سے زیادہ اُن کا خیرخواہ ہے۔ لہٰذا اپنی خواہشِ نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو۔ اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے‘‘ (النساء: 135)۔
سورۂ انعام کی آیت ملاحظہ ہو:
’’جب بات کہو تو انصاف کی کہو، اگرچہ معاملہ اپنے رشتہ دار کا کیوں نہ ہو، اور اللہ سے جو عہد کیا ہے اسے پورا کرو، اس کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے تاکہ تم یاد رکھو‘‘ (الانعام: 152)۔
اس طرح اسلام نے صلۂ رحمی کے نام پر ناانصافی و اقربا پروری پر روک لگادی ہے۔ صلۂ رحمی کا مطلب یہ ہے کہ اپنے رشتے داروں کے ساتھ بغیر کسی کا حق تلف کیے ہوئے ان کے دُکھ درد میں شریک رہا جائے، اور اپنی طرف سے ہو سکے تو ان کی مدد کی جائے۔

ڈاکٹر ریحان اختر قاسمی گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رشتے داروں کے ساتھ ارشاد باری ہے کے ساتھ صلہ ان کے ساتھ کی جائے باپ کے

پڑھیں:

خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی

خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ریسکیو 1122 نے صوبے بھر میں اپنی تمام ضلعی ٹیموں کو ہائی الرٹ کردیا ہے۔

ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی کے مطابق خراب موسمی صورتحال کے باعث ضلع بنوں کے مختلف علاقوں میں اب تک 20 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ مردان، پشاور اور دیگر اضلاع میں بھی آندھی اور تیز ہواؤں کے باعث متعدد ایمرجنسی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

پشاور کے مختلف مقامات پر درخت گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں رکاوٹیں ہٹانے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

بلال احمد فیضی نے کہا کہ ریسکیو 1122 کی تمام ضلعی ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بارش تیز ہوائیں خیبرپختونخوا زخمی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا