لاہور میں اس وقت کتنے ترقیاتی منصوبے چل رہے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں اس وقت متعدد ترقیاتی منصوبے تیزی سے جاری ہیں، جن کا مقصد شہر کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، سیوریج اور سڑکوں کی بہتری، اور شہری سہولیات میں اضافہ کرنا ہے۔
یہ منصوبے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے)، واسا، سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ، ٹیپا اور دیگر اداروں کے تحت چل رہے ہیں۔ لاہور میں تمام ترقیاتی کام وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ نگرانی جاری ہیں۔
لاہور ڈویلپمنٹ پروگراملاہور ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت شہر میں کئی سو کلومیٹر سیوریج لائنیں بچھائی جا رہی ہیں اور 6,013 سڑکوں اور گلیوں کی بحالی کی جا رہی ہے۔ یہ پروگرام 9 زونز میں تقسیم ہے، جن میں فیز ون (6 زونز) اور فیز ٹو (3 زونز) شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے بھاٹی گیٹ سانحہ قتل کے مترادف قرار، 5 افسران گرفتار، 2 برطرف
ایل ڈی اے کے ذرائع کے مطابق شالیمار زون میں کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ یہ ترقیاتی سرگرمیاں لاہور کے مختلف زونز بشمول شالیمار، سمن آباد، راوی، علامہ اقبال، نشتر، واہگہ، عزیز بھٹی، گلبرگ اور ڈیٹا گنج بخش میں جاری ہیں۔ فیز ون جون 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
داتا دربار کی توسیع اور بھاٹی چوک ری ماڈلنگداتا دربار کی توسیع اور بھاٹی چوک کی ری ماڈلنگ کے منصوبے میں پارکنگ ایریاز، پیدل چلنے والوں کے لیے انڈر پاسز، واکنگ فٹ پاتھس اور عمارتوں کی توسیع شامل ہے۔
بھاٹی چوک کی ری ماڈلنگ سے علاقے میں ٹریفک کی روانی اور مجموعی خوبصورتی میں بہتری آئے گی۔ یہ کام لاہور کے مرکزی علاقے داتا دربار اور بھاٹی چوک میں تیزی سے جاری ہے۔
راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ (RUDA)راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر یو ڈی اے) کا منصوبہ 110,000 ایکڑ پر محیط ہے، جو لاہور اور شیخوپورہ کو آپس میں ملاتا ہے۔ اس میں رہائشی اور کمرشل علاقے، ماسکن ای روِی اور چہار باغ انکلیو شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: ماں اور بچی کے سانحے پر وزیراعلیٰ مریم نواز شدید رنجیدہ، غفلت کے مرتکب کیخلاف سخت کارروائی کا اعلان
یہ پاکستان کا سب سے بڑا ریور فرنٹ پروجیکٹ ہے، جس کے تحت دریائے راوی کے کنارے لاہور سے شیخوپورہ تک 46 کلومیٹر کے علاقے میں ترقیاتی کام جاری ہے۔
تاریخی مقامات کی بحالیدیگر اہم منصوبوں میں صدیوں پرانے ٹیکسالی اور دہلی گیٹ کی جدید بحالی شامل ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے سیاحتی مقامات جیسے داتا دربار، بھاٹی گیٹ اور موچی گیٹ کو بہتر بنایا جا رہا ہے، جس سے تاریخی ورثے کے تحفظ کے ساتھ سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔
واضح رہے کہ بدھ کے روز پرندہ مارکیٹ کے قریب سیوریج لائن کے ترقیاتی کام کے دوران ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک خاتون اپنی 10 ماہ کی بیٹی سمیت سیوریج مین ہول میں گر گئیں اور جان کی بازی ہار گئیں۔ اس واقعے کے بعد متعلقہ منصوبے پر فی الحال کام روک دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سانحہ بھاٹی گیٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سانحہ بھاٹی گیٹ داتا دربار
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔