ضلع لاہورکی حدودسےباہرسےپتنگیں وسامان لانےکی مشروط اجازت
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
سٹی42: ضلعی انتظامیہ لاہور نے بسنت کے دوران شہر میں پتنگوں اور متعلقہ سامان کی قلت کے خدشے کو مدنظر رکھتے ہوئے بیرون لاہور سے پتنگیں اور ڈور لانے کے لیے مشروط اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ضلعی انتظامیہ نے ٹرانسپورٹیشن پرمٹ کا نظام متعارف کروا دیا ہے، جس کے ذریعے دوسرے اضلاع سے سامان لایا جا سکے گا۔
پرمٹ حاصل کرنے کا طریقہ کار:
لائسنس یافتہ ٹریڈرز ای-بیز پورٹل کے ذریعے پرمٹ حاصل کر سکیں گے۔ صرف رجسٹرڈ تاجروں کو ہی کاروبار کی مشروط اور قانونی اجازت دی جائے گی۔پرمٹ میں پتنگوں، گڈوں اور ڈور کی مقدار اور تفصیلات فراہم کرنا لازمی ہوگی۔گاڑی کا نمبر، ماڈل اور ڈرائیور کی تفصیلات بھی پرمٹ میں شامل کرنا ہوں گی اور ایک پرمٹ صرف ایک بار سامان منگوانے کے لیے کارآمد ہوگا۔
پرمٹ کے اجراء کے فوائد:
بیرون لاہور سے پتنگیں منگوانے سے طلب و رسد میں توازن پیدا ہوگا۔اس سے نرخوں میں استحکام بھی ممکن ہوگا اور پتنگوں کی قلت کا مسئلہ کم ہوگا۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 5 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔