ویب ڈیسک: بھاٹی گیٹ میں داتا دربار کے قریب سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ نے پولیس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس نے اس پر اور اس کے کزن پر تشدد کیا اور بیوی اور بچی کے قتل کا جھوٹا اعتراف کرانے کی کوشش کی۔

غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ اس نے پولیس کو بتایا کہ اس نے اپنی بیوی اور بچی کو اپنی آنکھوں سے سیوریج لائن میں گرتے دیکھا، تاہم ایس پی اور ایس ایچ او اس پر جھوٹ بولنے کا الزام لگاتے رہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ پولیس زبردستی قتل منوانا چاہتی تھی اور اسی مقصد کے لیے تشدد کیا گیا۔

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 5 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

انہوں نے بتایا کہ اس کے کزن تنویر کو بھی حراست میں لیا گیا اور اس کا موبائل فون بھی قبضے میں لے لیا گیا، حالانکہ اس کی بیوی کے ساتھ کسی قسم کی لڑائی نہیں ہوئی تھی اور وہ دونوں سیر کے لیے داتا دربار کے قریب آئے تھے۔ غلام مرتضیٰ کے مطابق واقعے کے وقت ان کا ایک بیٹا والدہ کے پاس موجود تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں داتا دربار کے قریب ایک خاتون اور اس کی کمسن بچی سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھیں۔ ابتدائی طور پر پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں نے واقعے کی تردید کی اور کہا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، تاہم تقریباً 10 گھنٹے بعد ماں بیٹی کی لاشیں جائے وقوعہ سے تقریباً 3 کلومیٹر دور سے برآمد ہوئیں، جس کے بعد واقعے پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا۔
 
 

ہزارہ ایکسپریس کی 2بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: غلام مرتضی اور اس

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار