وزیراعظم شہبازشریف کا ایوارڈ حاصل کرنے والے تاجروں کو بلیو پاسپورٹ دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے ایوارڈ یافتہ کاروباری افراد کو بلیو پاسپورٹ دیے جائیں گے، تاکہ انہیں بین الاقوامی سطح پر سہولت حاصل ہو۔ وزیراعظم نے صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی یونٹ کمی کا بھی اعلان کیا۔
وفاقی دارالحکومت میں نامور ایکسپورٹرز اور کاروباری شخصیات کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم نے قربانیاں دی ہیں اور غریب طبقے نے سخت حالات کا سامنا کیا ہے، اب ملک کو معاشی ترقی اور گروتھ کی جانب لے جانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
معاشی پالیسیاں مشاورت سے تشکیل دی جائیں گیشہباز شریف نے کہا کہ کاروباری برادری کی تجاویز کا خیرمقدم کیا جاتا ہے اور تاجر تنظیموں سے مشاورت کے بعد معاشی پالیسیاں ترتیب دی جائیں گی۔ ان کے مطابق سیاسی اور عسکری قیادت کے باہمی تعاون سے ملکی ترقی کی راہیں ہموار ہو رہی ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سفارتی اور دفاعی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ معرکۂ حق میں کامیابی کے بعد پاکستان کا عالمی تشخص مزید بہتر ہوا ہے اور بیرونِ ملک دوروں کے دوران عالمی رویوں میں واضح تبدیلی دیکھی گئی ہے۔
پاکستانی پاسپورٹ کو عالمی سطح پر عزتانہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں اب پاکستانی پاسپورٹ کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، جبکہ معرکۂ حق کے بعد مختلف ممالک پاکستان سے سرمایہ کاری کے لیے خود رابطہ کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے ایوارڈ یافتہ کاروباری افراد کو بلیو پاسپورٹ دیے جائیں گے، تاکہ انہیں بین الاقوامی سطح پر سہولت حاصل ہو۔
شہباز شریف نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری شفاف انداز میں مکمل کی گئی جسے سب نے دیکھا، اور آئندہ بھی نجکاری کے تمام مراحل شفافیت کے ساتھ طے کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اصلاحات کے ذریعے اربوں روپے کے غیر ضروری اخراجات کم کر رہی ہے۔
ٹیکس نظام میں فوری اصلاحات پر زوروزیراعظم کا کہنا تھا کہ براہ راست ٹیکسز میں تاخیر کے بغیر کمی ہونی چاہیے، جبکہ بالواسطہ ٹیکسز صارفین سے وصول کر کے سرکاری خزانے میں جمع کرانا کاروباری طبقے کی ذمہ داری ہے۔
برآمدات اور ڈیجیٹل معیشت حکومت کی ترجیحانہوں نے کہا کہ برآمدات پر مبنی معاشی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے، ڈیجیٹل شعبے میں نمایاں اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ قومی ایئرلائن پی آئی اے کو دوبارہ مستحکم کرنے کے لیے حکومت مکمل تعاون فراہم کرے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ فیلڈ مارشل کے خصوصی تعاون سے کئی اہم معاملات حل کیے گئے ہیں اور پاکستان کو اتنا مضبوط بنایا جائے گا کہ بھارت کو گھبراہٹ لاحق ہو جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شہباز شریف نے نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :