خیبر پختونخوا حکومت کی پاک افغان سرحد کی بندش پر سخت احتجاج، وفاق سے اعلیٰ سطحی اجلاس کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
خیبر پختونخوا حکومت نے پاک افغان سرحد کی مسلسل بندش کے باعث معاشی اور تجارتی سرگرمیوں پر پڑنے والے اثرات کے پیشِ نظر وفاقی حکومت کو خط بھیج دیا ہے۔
مشیر خزانہ مزمل اسلم نے وفاقی وزیر تجارت جمال کمال کو لکھے گئے خط میں بتایا کہ سرحد کی بندش سے صوبے کی ریونیو آمدنی، روزگار اور تجارت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ خاص طور پر انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (IDC) کی وصولیوں میں تقریباً 80 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ سرحد پار تجارت مکمل طور پر رک گئی ہے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ موجودہ صورتحال اقتصادی طور پر خاصی پریشان کن ہے، کیونکہ پاکستان پہلے ہی کم ہوتی برآمدات، سست اقتصادی ترقی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے دباؤ سے دوچار ہے۔ خط کے ساتھ ٹیکس وصولیوں کے حوالے سے کیپرا کا خط بھی منسلک کیا گیا ہے۔
مشیر خزانہ نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اعلیٰ سطحی اجلاس بلایا جائے، جس میں وفاقی اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں، تاکہ خیبر پختونخوا کے محصولات پر اثرات اور برآمد کنندگان و تاجروں کو درپیش چیلنجز پر تفصیل سے غور کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔