ایرانی جوہری تنصیبات: ممکنہ امریکی حملے کا خدشہ، روس نے عملے کے انخلا کا عندیہ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیش نظر روس ایران کے ایٹمی بجلی گھر سے اپنے عملے کے انخلا کے لیے تیار ہے۔
روس کی سرکاری ایٹمی توانائی کارپوریشن کے سربراہ الیکسی لیخاچیوف نے کہا ہے کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو روس ایران کے بوشہر ایٹمی بجلی گھر سے اپنے عملے کے انخلا کے لیے تیار ہے۔
روسی سرکاری میڈیا کے مطابق الیکسی لیخاچیوف نے بتایا کہ روسی حکام بوشہر ایٹمی پلانٹ کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور وزارتِ خارجہ اور وزارتِ دفاع کے ساتھ مل کر ممکنہ انخلا کے تمام آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو روسی ماہرین کو بحفاظت نکالنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔
لیخاچیوف نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال جون میں ایران کی بعض جوہری تنصیبات پر ہونے والے امریکی حملوں کے دوران بوشہر ایٹمی بجلی گھر کو نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن اس سے قبل بھی واضح کر چکے ہیں کہ بوشہر ایٹمی پلانٹ میں سینکڑوں روسی ماہرین اور انجینئرز خدمات انجام دے رہے ہیں۔
الیکسی لیخاچیوف نے خبردار کیا کہ اگر بوشہر ایٹمی بجلی گھر پر کسی قسم کا حملہ ہوا تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں اور یہ صورتحال 1986 میں یوکرین کے چرنوبل ایٹمی حادثے جیسی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایٹمی بجلی گھر بوشہر ایٹمی
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔