غزہ امن بورڈ میں شمولیت پاکستان کی نظریاتی بنیادوں سے انحراف ہے، سید علی رضوی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
اپنے ایک بیان میں سید علی رضوی کا کہنا تھا کہ یہ امر نہایت تشویشناک ہے کہ ایسے پلیٹ فارم کا حصہ بننے جا رہا ہے، جو بالواسطہ یا بلاواسطہ اسرائیل جیسی غاصب اور ناجائز ریاست کو جواز فراہم کرتا ہے۔ پاکستانی قوم واضح اور دوٹوک مؤقف رکھتی ہے کہ ہم اسرائیل کو کسی صورت تسلیم نہیں کرینگے اور نہ ہی ایسے کسی اقدام کی حمایت کرسکتے ہیں، جو اس سمت میں ایک قدم بھی ہو۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے صدر سید علی رضوی نے غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی عوام کو دھوکا دینے کی کوشش ناقابلِ قبول ہے۔ ہم غزہ کے نام نہاد امن بورڈ میں شمولیت کی سخت اور بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ امن کے نام پر قائم کیا گیا یہ بورڈ درحقیقت ایک سیاسی فریب کے سوا کچھ نہیں، جس کے ذریعے پاکستانی عوام کو گمراہ کرنے اور فلسطینی عوام کی جدوجہد کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اپنے ایک بیان میں سید علی رضوی کا کہنا تھا کہ یہ امر نہایت تشویشناک ہے کہ ایسے پلیٹ فارم کا حصہ بننے جا رہا ہے، جو بالواسطہ یا بلاواسطہ اسرائیل جیسی غاصب اور ناجائز ریاست کو جواز فراہم کرتا ہے۔ پاکستانی قوم واضح اور دوٹوک مؤقف رکھتی ہے کہ ہم اسرائیل کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے اور نہ ہی ایسے کسی اقدام کی حمایت کرسکتے ہیں، جو اس سمت میں ایک قدم بھی ہو۔
سید علی ضوی کا کہنا تھا کہ یہ اقدام بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے واضح اور اصولی مؤقف کے سراسر منافی ہے۔ قائد اعظمؒ نے فلسطین کے مسئلے پر ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے اور صہیونی قبضے کو تسلیم نہ کرنے کا واضح پیغام دیا تھا۔ ان کے اصولی نظریات سے انحراف دراصل پاکستان کی نظریاتی بنیادوں سے انحراف کے مترادف ہے۔ پاکستانی عوام فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، آزادی اور انصاف کی جدوجہد کے ساتھ کھڑے ہیں۔ غزہ میں جاری مظالم کے تناظر میں کسی بھی ایسے فورم کا حصہ بننا، جو حقیقی مزاحمت کے بجائے ظالم کو فائدہ پہنچائے، ناقابلِ قبول ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید علی رضوی
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔