اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) کو درخواست میں بخدمت جناب لکھنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے ور اس عمل کو نوآبادیاتی سوچ قرار دیے دیا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس صلاح الدین پنہور نے فیصلہ تحریر کیا، جس میں قرار دیا ہے کہ ایس ایچ او عوام کا خادم ہے اور عوام اس کے نوکر نہیں ہیں لہٰذا ایس ایچ او کو صرف جناب ایس ایچ او لکھا جائے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پرانی غلامانہ زبان ختم کی جاتی ہے، ایف آئی آر  درج کروانے والا شہری شکایت کنندہ نہیں بلکہ اطلاع دہندہ ہوگا، “کمپلیننٹ” کی اصطلاح صرف نجی فوجداری شکایت تک محدود ہے۔

سپریم کورٹ نے پولیس کارروائی میں “فریادی” کا لفظ بھی ممنوع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ “فریادی” رحم مانگنے کا تاثر دیتا ہے، حق مانگنے کا نہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر ناقابل قبول ہے، پولیس افسران کو سخت وارننگ دی جاتی ہے، ایف آئی آر  میں تاخیر پر PPC 201 کے تحت مقدمہ بن سکتا ہے کیونکہ ایف آئی آر میں تاخیر سے شواہد ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ نے جوڈیشل لا کلرک محمد سبحان ملک کے نکتے پر واضح ہدایات کی گئی ہے اور قرار دیا ہے کہ پولیس اور شہری کے تعلق کی نئی تشریح، ریاستی رویے میں بڑی تبدیلی ضروری ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے یہ فیصلہ 30 جنوری 2026 کو سنایا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سپریم کورٹ ایس ایچ او ایف آئی آر

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست