نوجوانوں کیلیے اسکل بیسڈ پروگرامز متعارف کرائے جائیں
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے غربت میں کمی اور سماجی تحفظ کے چیئرمین میر غلام علی تالپور نے کہا ہے کہ مہارتوں کی ترقی، سود سے پاک مالی معاونت، اثاثوں کی منتقلی اور چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں کا فروغ کمیونٹیز کو بااختیار بنانے اور پاکستان میں غربت کے پائیدار خاتمے کے لیے نہایت اہم ستون ہیں۔ وہ وزیراعظم سود سے پاک قرض پروگرام کے تحت چیکوں کی تقسیم کی تقریب اور ’ایچ این فوڈ پروڈکٹس‘ فیکٹری کے افتتاح کے موقع پر بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔سافکو ہیڈ آفس حیدر آبادسے جاری کردہ بیان کے مطابق کراچی میں منعقدہ اس تقریب میں سیکرٹری غربت میں کمی و سماجی تحفظ نوید احمد شیخ، سافکو، سیمیڈا، سول سوسائٹی تنظیموں اور میڈیا کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں میر غلام علی تالپور نے سماجی تحفظ، روزگار کی معاونت، کاروباری ترقی اور انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری کو یکجا کرنے کے لیے ’پی پی اے ایف‘ کے مربوط ترقیاتی ماڈل کو سراہا۔ انہوں نے یورپی یونین، ترقیاتی اداروں، انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹراور حکومتی شراکت داروں کے کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے تعلیم اور مہارت پر مبنی تربیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے پی پی اے ایف پر زور دیا کہ نوجوانوں کے لیے مزید اسکل بیسڈ پروگرامز متعارف کرائے جائیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نادر گل باریچ نے کہا کہ پی پی اے ایف ملک کے 150 اضلاع میں 164 مقامی تنظیموں کے اشتراک سے شواہد پر مبنی اقدامات کے ذریعے معاشی گریجویشن کے فروغ میں پیش پیش رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہارتوں، مالی وسائل اور منڈیوں تک رسائی بین النسلی غربت کے خاتمے کیلیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ مالی شمولیت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کے بلا سود قرض پروگرام کے تحت پی پی اے ایف نے ملک کے 67 اضلاع میں 49.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی پی اے ایف انہوں نے نے کہا
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔