Jasarat News:
2026-07-24@11:00:07 GMT

کٹھ پتلیاں

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

میں: آج لگتا ہے تمہیں انکل سرگم والے فاروق قیصر یاد آرہے ہیں۔

وہ: ہاں تم نے درست اندازہ لگایا ہے وہ پتلیوں کی شکل میں تخلیق کردہ مختلف کرداروں کے ذریعے پاکستانی معاشرے میں افراد کے سماجی رویوں، سیاسی صورت حال اور حکومتی محکموں کی کارگزاری کے ساتھ ساتھ نظام سے جڑی خامیوں اور بعض اوقات معاشی صورت حال کو بھی ہلکے پھلکے مزاحیہ اور طنزیہ انداز میں عوام کے سامنے پیش کیا کرتے تھے۔

میں: اور جہاں تک مجھے یاد ہے ان کے بنائے ہوئے کرداروں کے نام بھی بہت اچھوتے اور خاصے عوامی انداز کے ہوا کرتے تھے جیسے بونگا، رولا، ہیگا، ماسی مصیبتے وغیرہ۔

وہ: کیا ایسا نہیں ہے کہ جن باتوں کی نشاندہی وہ اپنے کرداروں کی مدد سے مخصوص تمثیلی انداز میں پتلی تماشوں کے ذریعے کرگئے تھے وہ ہمارے سماج میں آج پہلے سے زیادہ اور جگہ جگہ موجود ہیں۔

میں: ہاں یقینا ایسا ہی ہے ہمارا سماج، ہمارے ادارے، ہماری سیاست اور مجموعی طور پر ہم سب کٹھ پتلی ہیں اور ہماری ڈوریں کسی اور کے ہاتھ میں ہیں جو ہمیں جب چاہتے ہیں جس طرح چاہتے ہیں اپنی مرضی سے چلاتے رہتے ہیں۔ اور ہمیں پتا ہی نہیں چلتا کہ ہم کب بونگے، رولے، ہیگے اور نہ جانے کس کس کردار میں ڈھال کر بے وقوف بنادیے گئے۔

وہ: ویسے ہمیں کٹھ پتلی بنانے کا یہ سلسلہ صرف آج کا نہیں یہ تو برسوں سے جاری ہے، پاکستان بننے سے پہلے ہم انگریزوں کے ہاتھوں کم وبیش ڈھائی صدی تک کٹھ پتلی بنے رہے اور جب ہم اپنے بیرونی آقائوں کے ہاتھوں میں بندھی ڈوریاں تڑواکر آزاد ہوئے تو ان کی جگہ ہمارے اپنوں نے وہ ڈوریاں اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر پتلی تماشے کا وہ کھیل اسی طرح جاری رکھا جس کی بنیاد انگریز برسوں پہلے رکھ گئے تھے۔

برصغیر کے نظم ونسق کو جدید خطوط پر استوار کرکے ترقی کے نام پر جو طبقاتی اور استحصالی نظام انہوں نے آج سے برسوں قبل بناکر یہاں مسلط کیا تھا وہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں آج بھی بالکل اسی طرح برقرار اور لاگو ہے۔ وہ نظام اس وقت بھی سرمایہ داروں اور حکمرانوں پر مشتمل اشرافیہ اور معاشرے کے مقتدر طبقات کے مفادات اور جان ومال کے تحفظ کے لیے بنایا گیا تھا جس میں نوے فی صد سے زائد انگریز ہی تھے، وہ آج بھی پوری ایمان داری کے ساتھ بے ایمانی، بددیانتی، ناانصافی اور ظلم کے تمام اصولوں کے ساتھ اسی طرح جاری وساری ہے۔ آج بھی کسی صدر، وزیراعظم، جرنیل، کرنیل یا حسب ِ مراتب کوئی اور عہدے دار کہیں آمد کا ارادہ کرے تو ان کی سیکورٹی کے ذمے دار کمشنر، ڈپٹی کمشنر، ایس پی، ڈی ایس پی اپنی خواب گاہوں اور حفاظتی اڈوں سے نکل اچانک حرکت میں آجاتے ہیں، اپنے ضلع یا شہر میں کسی عام آدمی کی حفاظت اور علاقے کے امن وامان کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیوں کہ ان افسران کے لیے ان جھوٹے اور بد عہد حکمرانوں اور پاسبانوں کی جان ومال کی حفاظت اولین فریضہ ہوتی ہے۔

جس طرح انگریزوں کے لیے اس دور کے عام افراد کیڑے مکوڑے اور ان کے غلام تھے آج بھی اس ملک کے عوام اس ملک کے کرتا دھرتائوں اور آقائوں کے لیے حشرات الارض سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ اور زمین پر رینگنے والے کیڑوں کی اوقات اور مقدر یہی ہوتا ہے، راہ میں کچلے جائیں، دھتکارے اور روندے جائیں اور اگر کبھی غلطی سے اپنے اوپر ڈھائے جانے والے ظلم کے خلاف احتجاج کریں تو ان کی آواز بھی بس ان ہی کے چند ہم جنسوں تک پہنچ کر وہیں نذرِ خاک ہوجاتی ہے جہاں سے وہ بلند ہوتی ہے۔ لہٰذا ہم عوام سڑکوں پہ، گڑھوں میں، گلیوں بازاروں میں، ائر کنڈیشن شاپنگ پلازوں میں کیڑے مکوڑوں کی طرح اپنی موت آپ مرتے جارہے ہیں اور اس اشرافی نظام کے نام نہاد محافظ اور قبضہ گیر عیاشی کے سمندر میں دن رات غوطے کھا کھا کربے حسی کے ریکارڈز بنا رہے ہیں۔

میں: لیکن مجھے لگتا ہے یہ کٹھ پتلی والا معاملہ اب خاصا تبدیل ہوچکا ہے۔ کم وبیش ساٹھ پینسٹھ برس قبل ایک نئی حکمت عملی اور اصولوں کے تحت شروع کیا جانے والا یہ پتلی تماشا اب تماشے سے نکل کر اس ملک کا مقدر اور واحد حقیقت بن چکا ہے۔

وہ: اور اس سارے تماشے میں سب سے دلچسپ صورت یہ ہے کہ اس بار کٹھ پتلی کو اپنے مقام ومرتبے، حیثیت اور زیادہ کھلے الفاظ میں کہا جائے تو اپنی اوقات کا پہلے سے کہیں زیادہ اور مکمل ادراک ہے۔ یعنی پتلی کا کردار نبھانے والے کسی پتلے نے اگر خود کو غلطی سے ایک جیتا جاگتا، باضمیر اور غیرت مند انسان سمجھنے کی کوشش کی تو اس کے کھلونا نما ہاتھوں اور گردن وغیرہ میں موجود ڈوریوں کو کھینچنے میں ریاست کے اصل آقائوں کے ہاتھوں کے بجائے ان کی بس اک جنبش ِ نگاہ ہی کافی ہوگی۔

میں: لیکن یہ تو ہمارے ملک کی کوئی نئی صورت حال نہیں ہے یہ کام تو ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ پورے انہماک اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنا سب سے اہم فریضہ سمجھتے ہوئے پوری پیشہ ورانہ ذمے داری کے ساتھ سرانجام دے رہی ہے۔ ایک کٹھ پتلی، پھر دوسری کٹ پتلی، پھر تیسری، چوتھی، پانچویں اور سلسلہ ہنوز جاری است۔

وہ: پر اس بار معاملہ انتخاب سے زیادہ احسان کا ہے اور احسان فراموشی کردار کو داغ دار کردیتی ہے۔ اسی لیے اس بار جو کٹھ پتلی حکومت ہمارے حصے میں آئی وہ اس احسان کا بدلہ مکمل تابعداری سے چکانا چاہ رہی ہے، تاکہ اگلی بار بھی قرعہ فال ان ہی کے نام نکلے۔

وہ: مگر اس تمام پس منظر میں میرے لیے سب سے تشویشناک صورت حال یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم کروڑوں کٹھ پتلیوں کا کردار ماضی کی طرح آج بھی بخوشی نبھارہے ہیں اور موجودہ حالات میں یہ ادراک ِذات اور بھی کٹھن سے کٹھن ہوتا جارہا ہے کہ ہم اللہ کے بندے اور ایک جیتے جاگتے سمجھدار انسان ہیں۔ آج کا انسان اس سوشل میڈیا پر اس طرح اوندھے منہ گرا ہے، تو اسے اب نہ کوئی غم کھارہا ہے، نہ دکھ ستا رہا ہے اور نہ ہی وہ استحصال نظر آرہا ہے جس کا وہ برس ہابرس سے شکار ہے۔ اسے ہروقت صرف اپنے اس دکھاوے کے پروفائل کی فکر لاحق رہتی ہے جو اس کی اصل شخصیت سے خاصا دور ہے، وہ اللہ میاں کی طرف سے عطا کی گئی اپنی صورت کو مختلف فلٹرز لگانے کے بعد ایک شاہکار بنانے میں لگا رہتا ہے یا اپنے خیالات اور عالمانہ کمنٹس کے ذریعے اپنے ہی جیسوں کو مرعوب کرنے کی کوشش میں سارا وقت گنوادیتا ہے۔ یعنی ہم دھوکے، فریب اور منافقت کے اس جہان میں ایک کٹھ پتلی کی طرح جکڑ دیے گئے ہیں۔ کاش ہم ادراک ِ ذات کی پہلی منزل پر ہی قدم رکھنے کے قابل ہوسکیں۔ بقول شاعرؔ

حق اور سچ کا ترجمان ہوں میں
نہیں کٹھ پتلی، اک انسان ہوں میں
تم سے دھوکا میں نہیں کھائوں گا
تم سمجھتے ہو کہ نادان ہوں میں

شرَفِ عالم سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کٹھ پتلی صورت حال کے ساتھ ا ج بھی کے نام کے لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • عاطف اسلم کا نیا البم ’صبح آئے نہ‘ کب ریلیز ہو گا؟ گلوکار نے بڑی اپڈیٹ دے دی
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک