امریکہ اور ایران تصادم، خطے کی نئی شکل کو جنم دے گا(2)
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: امریکی پالیسی ساز زیادہ تر اس مفروضے پر عمل کر رہے ہیں کہ بالآخر بڑی جنگ امریکی سرزمین تک پہنچے گی، چاہے وہ براہِ راست تصادم کے ذریعے ہو یا نظامی خلل کے ذریعے۔ توانائی کی حفاظت بقائے باہمی کے لیے لازمی شرط بن جاتی ہے۔ ٹرمپ کا تاریخی دفاعی بجٹ بڑھانے کا اقدام جو تقریباً دو ٹریلین ڈالر کے قریب ہے، اسی سوچ کے عین مطابق ہے۔ یہ اس یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکہ کو توانائی تک رسائی کو ابھی محفوظ بنانا ہوگا، تاکہ بعد میں طویل تصادم کو برقرار رکھا جاسکے۔ اس کا بنیادی مقصد چین اور روس ہیں۔ تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
امریکہ کے دبائو اور تمام تر مطالبات کے سامنے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای ایک آہنی دیوار ہیں۔ اس وقت دنیا میں وہی اکیلے ہیں، جنہوں نے عملی طور پر امریکہ اور اسرائیل سمیت ان کے اتحادیوں کے منصوبوں اور ناپاک عزائم کو روک دیا ہے۔ گذشتہ بارہ روزہ جنگ میں بھی یہ آیت اللہ خامنہ ای کی بابصیرت قیادت کا ثمر تھا کہ ایران نے بہت زیادہ تیزی کے ساتھ اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کا جواب دیا۔ لہذا اس سارے معاملہ پر اب سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے نزدیک سمجھوتہ کوئی وقتی یا حکمتِ عملی کا انتخاب نہیں بلکہ وجودی خطرہ ہے۔ ان کی اتھارٹی ایک نہایت سوچے سمجھے تشخص پر قائم ہے۔ امریکی طاقت کے سامنے مزاحمت، اسلامی جمہوریہ کی سرپرستی اور اُس وسیع تر مزاحمتی محور کی قیادت، جسے وہ پیش کرتے ہیں۔ یہ مزاحمتی محور فلسطین، لبنان، عراق، لبنان، یمن اور شام میں دیکھا جا سکتا ہے۔
صرف یہی نہیں بلکہ ان کی شخصیت نے مزاحمت کو ایک نئی جہت فراہم کی ہے اور عوامی مزاحمت کو اب امریکہ سمیت یورپی ممالک میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ جہاں کے عوام اپنے ممالک کے رہنمائوں سے زیادہ آیت اللہ خامنہ ای کو محبوب مانتے ہیں۔ یہی طرزِ فکر دہائیوں سے ان کی قانونی حیثیت کو سہارا دیتا آیا ہے، بالخصوص سخت گیر حلقوں اور سکیورٹی اشرافیہ میں، جو مزاحمت کو محض پالیسی نہیں بلکہ ایک مقصد سمجھتے ہیں۔ اب جہاں تک امریکہ کے مطالبات میں ایران کو جوری توانائی سے محروم کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ میزائل پروگرام کو بند کروانے جیسے مطالبات دراصل سپریم لیڈر اور مزاحمت کے تشخص کے مرکز پر کاری ضرب کے مترادف ہے، تاہم آیت اللہ خامنہ ای ہمیشہ قوم کو تاکید کرتے رہے ہیں کہ ترقی کریں اور خود انحصار ہو جائیں، مغربی حکومتوں پر اعتماد نہ کریں۔
ایران کی یہ جوہری اور میزائل ٹیکنالوجی پروگرام محض فوجی اثاثے نہیں بلکہ خود مختاری، deterrence (روک تھام) اور ایک مخاصمانہ علاقائی ماحول میں بقا کی علامت ہیں۔ ان سے دستبرداری کمزوری کا پیغام دے گی، نظام کی نظریاتی بنیاد کو متزلزل کرے گی اور ریاست کے اندر اور باہر دونوں جگہ حریفوں کو حوصلہ دے گی۔ آیت اللہ خامنہ ای کے لیے ایسی رعایتیں تقریباً یقینی طور پر اندرونی بغاوت کو دعوت دیں گی، چاہے وہ پاسدارانِ انقلاب ہوں، مذہبی سخت گیر عناصر، یا وہ دھڑے جنہوں نے اپنی طاقت اور مراعات کو مغرب سے تصادم کے ساتھ جوڑ رکھا ہے۔ ان کے نقطۂ نظر سے سمجھوتے کے ذریعے بقا ایک سراب ہے۔ ایسا کمزور نظام جو اپنی deterrence سے محروم ہو، کھلا، غیر محفوظ اور اندر سے بکھرنے کے خطرے سے دوچار ہوگا۔
اس کے برعکس، آخری حد تک مزاحمت خواہ کتنی ہی پرخطر کیوں نہ ہو، نظام کے مزاحمتی بیانیے کو برقرار رکھتی ہے اور اس کے بنیادی حامیوں کو متحرک رکھتی ہے۔ اس حساب سے سرکشی بقاء کا ایک امکان فراہم کرتی ہے، جبکہ سرنڈر یقینی زوال کی ضمانت بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے لیے شدید دباؤ کے باوجود مفاہمت کے بجائے تصادم کا راستہ اختیار کرنا زیادہ ممکن ہے، بنسبت اس معاہدے کے، جس سے وہ نظام ہی کھوکھلا ہو جائے، جس کے تحفظ کے لیے وہ موجود ہیں۔ لہذا تاریخ بتاتی ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای نے ہمیشہ عزت کے راستے کا انتخاب کیا ہے اور اب بھی ان کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ وہ تن تنہاء بھی امریکہ اور اسرائیل کے مقابلہ پر ڈٹے رہیں گے۔
امریکی ماہرین سیاسیات کے نزدیک اس تمام تر صورتحال میں ایک سوال انہیں تنگ کر رہا ہے کہ اگر فرض کیا امریکہ ایران پر حملہ کرنے میں اور اپنے تمام مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر ایران میں حکومت کون چلائے گا۔؟ اس حوالے سے امریکی عناصر دو نام پیش کرتے ہیں، ایک مریم رجوی ہے اور دوسرا رضا پہلوی۔ دونوں کی ایران کے اندر محبوبیت نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ ایران کے باہر بسنے والوں میں چند ہزار افراد ان کو پسند کرتے ہیں۔ رضا پہلوی کو اسرائیلی اور مغربی حلقوں کی جانب سے بھرپور طور پر فروغ دیا جاتا ہے، مگر اس کی وسیع اندرونی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ان کے والد کی جبر کی میراث عوام میں اب بھی غیر مقبول ہے اور امریکی اہلکار نجی طور پر اس پر شک کرتے ہیں کہ وہ ملک کو متحد کر پائیں گے۔ لہذا یہ بھی امریکہ کی ناکامی کا عنصر ہے۔
مریم رجوی کی قیادت میں، این سی آر آئی خود کو ایک منتظر حکومت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اس کی بین الاقوامی سطح پر پہچان اور بیرون ملک ایرانی برادری کی حمایت موجود ہے، لیکن ایران کے اندر اس کا عوامی کنٹرول محدود ہے۔ لہذا یہ بھی ایک ناکارہ کارتوس سے زیادہ نہیں ہے۔ یہ تو وہ صورتحال ہے کہ جو ایرن اور امریکہ کے مابین اور ایران کے اندرونی حالات سے متعلق اور امریکہ کے مطالبات سے متعلق ہے، لیکن اس تمام تر تصادم کی صورتحال میں کچھ عالمی کردار ابھی بھی باقی ہیں کہ جن کے بارے میں ذکر کیا جا ئے گا۔ جن میں چین، روس اور چند دیگر انتہائی اہم ہیں۔ ایران محض ایک مشرقِ وسطیٰ کی ریاست نہیں؛ یہ عالمی طاقتوں کی جدوجہد میں ایک جغرافیائی و اسٹریٹجک محور کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس کا محل وقوع، وسائل اور سیاسی وابستگی توانائی کی حفاظت، سلطنت کے استحکام اور عظیم طاقتوں کے درمیان مقابلے کے تقاطع پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن کی اسٹریٹجک سوچ میں ایران کا مقام اس سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اگر ایرانی حکومت گِر جائے تو اس کے اثرات صرف تہران تک محدود نہیں رہیں گے۔ چین اپنے سب سے اہم غیر مغربی توانائی فراہم کنندگان میں سے ایک کو کھو دے گا، ایک ایسا تعلق جو بیجنگ کو امریکی اور اتحادیوں کے عالمی تیل کے بازاروں پر کنٹرول کے مقابلے میں بچانے میں مدد دیتا رہا ہے۔ اسی دوران، واشنگٹن عالمی توانائی کے بہاؤ پر اپنی گرفت مضبوط کرے گا، ایک ایسے نظام کو مستحکم کرے گا، جس میں بڑے تیل پیدا کرنے والے یا تو براہِ راست امریکی طاقت کے ساتھ جڑے ہیں، یا اس کے شدید اثر و رسوخ میں ہیں۔
ایران یوریشیائی کیمپ سے باہر دھکیل دیا جائے گا اور رضاکارانہ یا غیر رضاکارانہ طور پر مغربی مدار میں کھینچا جائے گا، ایک ایسی اسٹریٹجک تبدیلی کو مکمل کرتے ہوئے جو دہائیوں سے جاری ہے۔ امریکہ پہلے ہی سعودی عرب، عراق، نائیجیریا، اور وینزویلا جیسے اہم توانائی پیدا کرنے والوں پر خاطر خواہ اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ ایران وہ گمشدہ حصہ ہے، جہاں وسائل پر کنٹرول کے اس جنون سے نہ صرف تہران پر دباؤ کی وضاحت ہوتی ہے، بلکہ واشنگٹن کی وسیع تر خواہشات بھی واضح ہوتی ہیں، جس میں گرین لینڈ میں دوبارہ دلچسپی شامل ہے، جو زیادہ تر توانائی اور اسٹریٹجک معدنیات کے مفادات سے وابستہ ہے۔
منطق واضح ہے کہ وسائل کو محفوظ بنائیں، سپلائی چین کو محفوظ رکھیں اور حریفوں کو آزاد رسائی سے محروم کریں۔ وسیع تر سیاق و سباق میں یہ عظیم طاقت کے تنازع کی تیاری ہے۔ امریکی پالیسی ساز زیادہ تر اس مفروضے پر عمل کر رہے ہیں کہ بالآخر بڑی جنگ امریکی سرزمین تک پہنچے گی، چاہے وہ براہِ راست تصادم کے ذریعے ہو یا نظامی خلل کے ذریعے۔ توانائی کی حفاظت بقائے باہمی کے لیے لازمی شرط بن جاتی ہے۔ ٹرمپ کا تاریخی دفاعی بجٹ بڑھانے کا اقدام جو تقریباً دو ٹریلین ڈالر کے قریب ہے، اسی سوچ کے عین مطابق ہے۔ یہ اس یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکہ کو توانائی تک رسائی کو ابھی محفوظ بنانا ہوگا، تاکہ بعد میں طویل تصادم کو برقرار رکھا جاسکے۔ اس کا بنیادی مقصد چین اور روس ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ا یت اللہ خامنہ ای امریکہ کے ایران کے کے ذریعے کرتے ہیں کے اندر کے ساتھ ہے کہ ا اور اس ہے اور کے لیے ہیں کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔