Islam Times:
2026-07-24@09:33:55 GMT

کوئٹہ سمیت متعدد اضلاع میں بی ایل اے کا حملہ

اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT

کوئٹہ، مستونگ، گوادر اور نوشکی میں دھماکوں اور فائرنگ کی اطلاعات ملی ہیں۔ صوبے میں انٹرنیٹ سروسز، ٹرین سروسز بند، جبکہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت مختلف اضلاع میں کالعدم تنظیم بی ایل اے کی جانب سے حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ جن کی تاحال آزادانہ تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔ تاہم وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے صوبے کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے سریاب روڈ پر پولیس حکام پر حملے کی اطلاعات ہیں۔ جس کے دوران پولیس اہلکاروں کے جانبحق اور زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر بی ایل اے سے متعلق ایک ویڈیو بھی زیر گردش ہے، جس کے متعلق دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کوئٹہ کے مشرقی بائی پاس پر ان کے افراد اسلحہ سمیت موجود ہیں۔

اسی طرح کوئٹہ کے علاوہ مستونگ، گوادر اور نوشکی میں بھی دھماکوں اور فائرنگ کی اطلاعات ملی ہیں۔ صوبے کے بعض اضلاع میں انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی ہیں، جس کے باعث واقعات کی تصدیق نہیں ہو پا رہی ہے۔ وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے تمام ہسپتالوں میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ متعدد اضلاع میں موبائل سروسز بھی بند کر دی گئی ہیں۔ کوئٹہ کینٹ کی جانب سے بھی حالات کے پیش نظر تمام داخلی راستے بند کرکے بیرونی حصار بھی قائم کر دیا ہے۔ جبکہ ٹرین سروسز بھی معطل ہے۔ حکومت کی جانب سے عوام الناس کو بتایا گیا ہے کہ وہ مستند ذرائع سے ملنے والی خبروں پر یقین کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کی اطلاعات اضلاع میں

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار