بانیٔ پی ٹی آئی خیریت سے اور ٹھیک ہیں: مصطفیٰ کمال
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
مصطفیٰ کمال—فائل فوٹو
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی خیریت سے اور ٹھیک ہیں۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اٹھارہویں ترمیم کے بعد سندھ حکومت کو جناح اسپتال نہیں دیا، ہم نے سندھ حکومت کے ہیلتھ کیئر سسٹم کو بہتر کرنے کی کوشش کی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ شہر یتیم نہیں ہے ہم نے اپنے حصے کا قرض ادا کیا ہے، پاکستان اس شہر کی وجہ سے چل رہا ہے۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے 27 ویں آئینی ترمیم پر ہمیں یقین دہانی کروائی تھی، آئینی ترمیم صرف کراچی تک محدود نہیں، اندرونِ سندھ کے لیے بھی اختیارات مانگے، 27 ویں آئینی ترمیم میں سارے وفاقی وزراء نے ہماری ترمیم سے اتفاق کیا۔
انہوں نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم میں بھی یہی مطالبہ رکھا مگر پیپلز پارٹی نہیں مانی، پنجاب اسمبلی نے بھی ایم کیو ایم کی باتوں کو اپنی قرارداد کا حصہ بنایا، اسٹینڈنگ کمیٹی میں دو دن ہماری ترمیم زیرِ بحث رہی صرف پیپلز پارٹی راضی نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر صحت اور متحدہ قومی موومنٹ کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے اعتراف کیا ہے کہ پیپلز پارٹی چاہتی تو اپنے کام کے ذریعے باقی جماعتوں کی سیاست ختم کرسکتی تھی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی میں گٹر میں گر کر بچے مر رہے ہیں، میرے شہر کی ہر دوسرے دن کی خبر ہے کہ موبائل چھینتے ہوئے ڈاکوؤں نے بندہ مار دیا، کراچی میں جب چھوٹا موٹا کام شروع ہوا وزیرِ اعلیٰ نے لیٹر لکھ کر کام بند کروا دیا، جو سندھ حکومت 18 سال میں ہمیں اون نہیں کر سکی وہ آگے کیا کرے گی؟
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ذوالفقار بھٹو کے آئین میں ہے کہ صوبہ مسائل حل کرنے میں ناکام ہو تو وفاق مداخلت کر سکتا ہے، اس امن کو قائم رکھنے کے لیے ہم نے بڑی قربانی دی ہے، کسی کو گمان نہ ہو کہ یہ شہر یتیم ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ نے نپاہ وائرس پر الرٹ جاری کیا ہے، پاکستان ابھی نپاہ وائرس سے محفوظ ہے، لوگ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر نے کہا کہ کمال نے
پڑھیں:
ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔
ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟
یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔
چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔
آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔
’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔
ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔
بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔
قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔
سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔
50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹرچند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔
بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔
یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیےایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔
عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟
مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘
ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل