سعودی حج ویزا کے لیے بائیو میٹرک لازمی قرار، وزارت مذہبی امور کا اہم اعلان
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وفاقی وزارت مذہبی امور نے سعودی عرب کے حج ویزا سے متعلق بائیو میٹرک عمل کے حوالے سے ایک اہم اعلان جاری کیا ہے، جس کا مقصد عازمین کو سہولت فراہم کرنا اور حج انتظامات کو مزید منظم بنانا ہے۔
وزارت کے ترجمان کے مطابق اب عازمین حج سعودی ویزہ بائیو موبائل ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے اپنی بائیو میٹرک معلومات مکمل کر سکتے ہیں، جس سے انہیں طویل قطاروں اور اضافی سفری مشکلات سے نجات ملے گی۔
ترجمان نے واضح کیا کہ سعودی حکومت کی ہدایات کے مطابق حج ویزے کے لیے بائیو میٹرک کا اندراج لازمی قرار دیا گیا ہے اور جو عازمین موبائل ایپ کے ذریعے یہ عمل مکمل نہ کر سکیں، انہیں 8 فروری سے قبل قریبی سعودی تاشیر سینٹر سے بائیو میٹرک کروانا ہوگا۔
وزارت نے خبردار کیا ہے کہ بائیو میٹرک مکمل نہ ہونے کی صورت میں حج ویزا جاری نہیں کیا جائے گا، جس سے عازمین کا مقدس سفر متاثر ہو سکتا ہے۔
وزارت مذہبی امور کے مطابق سعودی تاشیر سینٹرز کی مکمل تفصیلات اور پتے پاک حج موبائل ایپ پر بھی دستیاب ہیں تاکہ شہریوں کو بروقت رہنمائی فراہم کی جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے عازمین بشمول فلسطین کے مظلوم عوام کو بھی بہتر اور منظم سہولیات میسر آئیں گی جو برسوں سے سفری پابندیوں اور انتظامی رکاوٹوں کا سامنا کرتے آ رہے ہیں۔
وزارت مذہبی امور نے عازمین سے اپیل کی ہے کہ وہ مقررہ وقت کے اندر بائیو میٹرک کا عمل مکمل کریں اور کسی بھی افواہ یا غیر مصدقہ معلومات پر کان نہ دھریں۔ حکام کے مطابق حج جیسے مقدس فریضے کی ادائیگی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی ناقابل تلافی نقصان کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے تمام عازمین کو ہدایات پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بائیو میٹرک کے مطابق
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔