سانحہ بھاٹی گیٹ تفتیش، نجی کمپنی و سرکاری افسران زد میں آگئے
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
لاہور: (نیوزڈیسک)پنجاب میں دل دہلا دینے والے واقعات پر مبینہ طور پر “مٹی پاؤ” کلچر کے خاتمے کی جانب اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سانحہ بھاٹی گیٹ پر وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی شدید برہمی کے بعد بڑے اقدامات کیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق بھاٹی گیٹ پر کام کرنے والی ایس ایم ایس ڈیزائن اینڈ انجینئرنگ سسٹم کمپنی کو فوری طور پر کام سے روک دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی تفتیش کا دائرہ کار بھی وسیع کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد معاملہ صرف نجی کمپنی تک محدود نہیں رہا بلکہ مبینہ طور پر غفلت برتنے والے سرکاری افسران کو بھی شاملِ تفتیش کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی کی مجرمانہ غفلت اور بنیادی حفاظتی ایس او پیز سے انحراف اس المناک حادثے کی بڑی وجوہات میں شامل قرار دی جا رہی ہیں۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کمپنی کے سیفٹی آفیسرز سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا، جہاں ان کا چار روزہ ریمانڈ منظور کر لیا گیا۔ گرفتار افراد میں سیفٹی آفیسر محمد حنزلہ، اصغر علی، احمد نواز جبکہ کمپنی مالکان سلمان یاسین اور عثمان یاسین شامل ہیں، جن سے تفتیش جاری ہے۔
تحقیقاتی حکام کے مطابق دو سے تین فروری کے دوران متوقع پوسٹ مارٹم رپورٹ کیس کی پیش رفت میں مزید اہم کردار ادا کرے گی۔ ادھر وزیراعلیٰ کے نوٹس کے بعد بھاٹی گیٹ کی سائٹ کو “ڈیتھ ٹریپ” سے محفوظ زون میں تبدیل کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں، اور حفاظتی انتظامات کے بغیر کام کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ سائٹ کو جدید سیفٹی پروٹوکولز کے تحت لایا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ مٹی پاؤ کا دور ختم ہو چکا ہے اور پنجاب کی بیٹیوں کے خون کا حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہنستے بستے گھرانے اجاڑنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانا ان کا مشن ہے۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق معصوم سعدیہ اور اس کی ننھی بچی کے زخم دیکھ کر دل خون کے آنسو رویا اور یہ زخم پورے پنجاب کے ماتھے پر لگے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھاٹی گیٹ
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔