پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں حصہ لینے کا اعلان تو کیا ہے لیکن بھارت کے خلاف شیڈول 15 فروری کا میچ  نہ کھیلنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کو ٹی20 ورلڈ کپ کے گروپ اے میں بھارت، نیدر لینڈز، امریکا اور نمیبیا کے ساتھ شامل کیا گیا ہے اور پاکستان نے بھارت کے خلاف شیڈول 15 فروری کے میچ کا بائیکاٹ کر دیا جس کی کئی وجوہات ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان نے بنگلا دیش کے حوالے سے آئی سی سی کے جانبدارانہ فیصلوں پر تشویش ظاہر کی ہے اور بھارت کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان اس معاملے پر بنگلا دیش کے ساتھ اظہار یکجہتی دکھانا چاہتا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق جےشاہ  نے اپنے جانبدارانہ فیصلوں سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو انڈین کرکٹ کونسل بنا دیا،  جانبدارانہ فیصلوں سے انصاف  اور برابری کے اصول کی دھجیاں بکھرگئیں۔

مزید پڑھیں

پاکستان کا ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کرنے بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ  آئی سی سی کے پلیٹ فارم پرایک ملک کی خاطر کسی دوسرے ملک کے لیے دوسرامعیار اپنایا جاتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے درمیان حالیہ ملاقات میں اس حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے جس میں طے پایا کہ پاکستان ورلڈ کپ میں حصہ لے گا لیکن بھارت کے خلاف میچ میں حصہ نہیں لے گا۔

یہ میچ 15 فروری کو ہونا تھا تاہم اب پاکستانی ٹیم اس میں شرکت نہیں کرے گی جس کا مقصد آئی سی سی کے پلیٹ فارم پر انصاف اور مساوی مواقع کی فراہمی کے اصول کا تقاضا کرنا بتایا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھارت کے خلاف ورلڈ کپ

پڑھیں:

سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا

قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔

اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔

بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، صائمہ سلیم

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • افغانستان میں طالبان رجیم کیخلاف مزاحمت مزید زور پکڑنے لگی، مخالف گروپوں کے حملوں میں تیز ی آگئی
  • اسپین کے ورلڈ کپ ہیروز کو ٹماٹروں میں کیوں تولا گیا، یہ دلچسپ روایت کب سے شروع ہوئی؟
  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  • الزاری جوزف کا پاکستان کیخلاف ٹیسٹ سیریز کیھلنے سے انکار، سیمی کا اظہار برہمی
  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی